بيمارياں ہمارے امتحان کا حصہ ہوتی ہيں

 

 

·            بيماريوں کے پيچھے کيا وجہ ہوتی ہے؟

hasta cocuk 300x224 امراض ہماری زندگی میں ان چیزوں میں سے ایک ہیں  جوہمیں یاد کراتے ہيں کہ ہم واقعی کسقدر کمزور ہیں۔ ہمارے بالکل محفوظ لگنے والے جسم  ایک چھوٹے بیکٹیریا یا وائرس جو ننگی آنکھ سے پوشیدہ ہےکا بری طرح  شکار ہو سکتے ہیں. ایک چھوٹی سی سوچ اصل میں ہمیں یہ سمجھنے میں مجبورکر ديگی کہ ہمارے جسم  کے لئے تعجب کی بات ہے کہ فقط ایک بیکٹیریا اُن کواسقدر متاثر کرديتا ہے۔ یہ ايسا  ہے، کیونکہ اللہ  نے ہمارے جسم کو بے عیب تحفظاتی نظام کے ساتھ پیدا کیا ، خاص طور پر ہمارے مدافعتی نظام کو۔اس کو بآسانی ہمارے جسم کے دشمنوں کے خلاف لڑایٔ کرنے والی ایک مضبوط فوج  کہا جا سکتا ہے۔ تاہم، انسان ان تمام حفاظتی نظام کے باوجود بے بس ہی نہیں بلکہ بہت کثرت سے بیمار بھی ہوتا رہتا ہے۔ اس سے ہمیں اس بات کو سمجھ جانا چاہئے کہ اللہ ہمیں اس طرح بھی  پيدا کر سکتا تھا کہ ہم کبھی بیمار نہیں پڑتے۔ وائرس، بیکٹیریا ہم پر کوئی اثر نہیں کر پاتے، یا يہ چھوٹے 'دشمن'  جو خاص طور پر تیار کيۓ گۓ ہرگز موجود ہی نہ ہوتے۔ تاہم، کسی بھی وقت کسی بھی شخص کو بغیر کسی ظاہری وجہ سے صحت سے جدوجہد کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، جلد پر ایک چھوٹے سے کٹ کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والا وائرس  قليل وقت میں پورے جسم میں پھیل سکتا ہے.   ٹیکنالوجی خواہ کتنی ہی جديد  کيوں نہ ہو جاۓ، عام سا وائرس بھی بہت آسانی سے ہميں زير کر سکتا ہے۔

يہ کویٔ دور دراز کے منظرنامے نہيں ہيں، وہ کسی کو بھی کسی بھی وقت ہو سکتی ہيں ، اس سے ہر کسی کو ان حقائق پر اچھی طرح غور کرنا چاہئے. دیگر تمام کمزوریوں کی طرح، امراض بھی خاص طور پر ہمارے لئے اللہ کی طرف سے پیدا کیے گۓ ہيں . انسان کا رحجان تکبر اور غرور کی طرف ہوتا ہے اور وہ اپنی کمزوريوں کو بھول جانے کی عادت رکھتاہے۔. یہ بیماریاں  آدمی کو اُسکی کمزوریوں کو دیکھنے اور اُن کو سمجھنے ميں اس کی  مدد کرتی ہيں اور اس زندگی کی سچایٔ و ناپسندیدہ نوعیت کو بھی۔.

بیماریاں مسلمانوں کے لئے  ﷲ نےآزمأشوں کے طور پر پيدا کی ہيں تاکہ وہ جنّت کی خواہش رکھيں، اسکے ساتھ ﷲ نے جو صحت کا تحفہ عطا کيا ہے، اس جيسی نعمتوں پر غور کريں اور ﷲ کا شکر ادا کرتے رہيں اور    جان ليں کہ وہ اتنے کمزورہيں، کہ اُنہيں صدقِ دل سےاللہ کے آگے ہتھیار ڈال دينے چاہئں۔.

انسان زندگی میں حاصل کی جا چکی بہت سی  چیزیں  معمولی سمجھ بيٹھتا ہے. تاہم، وہ تمام چیزيں جن کو ہم اتنا پیار کرتے ہيں صرف اللہ تعالی کی طرف سے پیداکردہ نعمتيں ہيں.

مثال کے طور پر، بہت سے لوگ یہ بھول جا تے ہیں کہ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ ہم ہر صبح  اُٹھتے ہيں اور کھڑے ہوکر اپنے پیروں پر آسانی سے چل سکتے ہیں. تاہم، اگر ایک پیر میں  بھی کؤی چھوٹا سا مسئلہ ہو جأے توایک بڑا مسئلہ  پيدا ہو جاتا ہے جسکی وجہ سے روزانہ کی سرگرمیوں میں رکاوٹ ہو جاتی ہے.  چنانچہ ایک شخص جس کے پاؤں ميں درد ہے بہتر طریقے سےاُن ہزار قدموں کی تعریف کرنے کے قابل ہو جا ئگا جو وہ دن کے دوران  بغير کسی تکليف کے اُٹھاتا ہے۔.

ایک متقی مسلمان اس پر اور اسطرح کی بہت سی بظاہر غیر اہم چیزوں کو اللہ کا شکرادا کرنے اور اس کا قرب حاصل کرنے کے مواقع کے طور پر ليتا ہے. وہ یاد رکھتا ہے کہ اللہ تعالی نے اسے ایک صحت مند شخص  بناکےا سے ایک بہت ہی عظیم نعمت سے نوازا ہے. وہ ایکبار اور بھی ديکھتا  ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو بیماری دیتا ہے اور صرف اللہ تعالی ہی  شفا دے سکتا  ہے اور لہذاوہ  اللہ کے حضور ہی صحت پانے کيلٔے رجوع کرتا ہے. ہر لمحے جب درد کا احساس ہوتا ہے، وہ اللہ  ہی کو یاد کرتا ہے اوراپنے دل کو ہر وقت اللہ ہی پر مرکوز رکھتا ہے۔.

وہ جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھے ہدایت دیتا ہے؛.

جس نے مجھے کھاناديا ہے اور پينا ديا ہے؛

اور جب میں بیمارہوتا ہوں، وہ مجھے شفا ديتاہے؛.

وہ جو میری موت کا سبب بنائے گا، پھر مجھے زندگی عطا کريگا؛

مجھے پوری امید ہے کہ حساب کے دن میری غلطیوں کو معاف کر دے گا؛

مجھے صحيح انصاف سے نوازے گا اور مجھے صالحين کيساتھ شامل کريگا؛

اورمجھے اعلٰی لوگوں کے درميان اونچی عظمت عطا کريگا؛

اور مجھے نعمتوں کے باغ کا وارث بنأے گا

الشعرا)78-85)

امراض ہمیں یہ سمجھانے ہيں کہ اس دنیا سے منسلک ہونا انتہأی بیکار ہے. وہ ہمیں یہ بھی ظاہر کرتے ہيں کہ سب کچھ جو ہمارے پاس ہے ہمارے امتحان کا ہی ایک حصہ ہے. ہم اس طرح سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہيں کہ ہم صرف اللہ کے غریب غلام ہیں اور ہميں آسانی سے شکست دی جا سکتی ہے اورحتٰی کہ جراثیم بھی ہميں ہلاک کر سکتے ہیں. اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے اور وہی ہمیں ارد گرد کے تمام اقسام کے خطرات سے بچاتا ہے. کوئی چاہے کتنا کيوں نہ کوشش کر کے سوچ لے اور اپنے آپ کو قائل کر لے کہ  وہ طاقتور ہے ، وہ کبھی بھی اپنی مدد يا حفاظت خود نہيں کر سکتا اگر اللہ ايسا نہ کرنا چاہے۔ اگر اللہ چاہے وہ کسی کو بیماریوں ميں جکڑ لے گا اور اس کے جسم میں دیگر کمزوریاں اسطرح سے پيدا فرما ديگاکہ وہ اپنی بے بسی کو مکمل طور پر سمجھ جائگا۔

يہ زندگی اللہ کی طرف سے پیدا کی  جانيوالی جانچ کی جگہ ہے. ہر شخص اللہ کو راضی کرنے کے واسطے اپنی زندگی کو اُسی طرح گزارنے کا ذمہ دارہے اور اس مقصد کے لئے مسلسل امتحان میں سے گزرتا ہے. وہ لوگ جو اللہ کے احکامات کی پیروی کر رہے ہیں اور اچھے اخلاق کا مظاھرہ کرتے ہيں،  جنت میں ہمیشہ ہميشہ رہنے کے قابل ہونگےا. تاہم، وہ لوگ جو تکبر ميں  رہیں اور ابدیی جنت کی زندگی پر اِن چند دہائیوں کی زندگی کو ترجیح ديں ، خود  کو دونوں  جہاں يعنی يہ دنیا اور آخرت میں کمزوریوں،  مشکلات اور مسائل سے چھٹکارا لينے کے قابل نہيں ہو پائنگے۔.

عدنان oktar جناب عدنان Oktar اس زندگی کی وضاحت کرتے ہيں کہ يہ آزمأش کی ایک جگہ ہے

عدنان OKTAR: بیماریوں کا خاتمہ نہیں ہو پاۓ گا. یہ زندگی ہمارا امتحانی مرحلہ ہے. تقریباً ہر دن کوئی شخص بیمار ہو جاتا ہے. یا تقریباً ہر کوئی بیمار ہو جاتا ہے، یا ہر ہفتہ یا ہر 10 دن بعد بيمار محسوس کرتا ہے.  بہت سے مختلف امراض ہیں. اور اللہ ان کے ساتھ اپنے بندوں کا امتحان  ليتا ہے. بہت قدرتی امر ہے.تو جب اللہ بیماری پیدا کرتا ہے، تو علاج بھی پیدا کرتا ہے. بیماری بہت پیچیدہ اور تفصیلی ہوتی ہے. اللہ انفیکشن تخلیق کرتا ہے، مثال کے طور پر سینے کا انفیکشن ، جس سے کؤی کھانسی کرتا ہے اور اسے غیر آرام دہ بنا دیتا ہے. اور جب ہم بیکٹیریا پر نظرڈالتے ہيں، جو جراثیم کی وجہ سے بنتے ہيں،  توہم خوردبین کے نيچے ایک حیرت انگیز پیچیدہ دنیا دیکھتے ہیں. وہ بہت اچھی تفصیلات، نظام، بالکل مکمل تکنیک  شدہ ڈیزائن ، breathtaking طریقوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں، اور وہ تقریباً ہوش و عقل  پر مبنی  اشيأ ہیں. ان سے لڑنے کے لئے، ہم فارمیسی  علاج کے لئے جاتے ہيں جدھر اللہ نے کامل، بے عيب ادويات باکس بنایا. ہم باکس کھولتے ہیں اور اللہ نے اسکے کامل، صاف کپ کے اندر ادويات رکھ دی ہيں .

اللہ  نےکامل نصوص جس پر وضاحت سےلکھا گیا، کی حوصلہ افزائی کی. ہمیں سمجھايا کہ ہم کس طرح اس کا استعمال کر سکتے ہیں.جب ہم ادويات کی آناخت ڈھانچے پر نظرڈالتے ہيں تو ہميں  یہ بالکل صاف،  پیچیدہ، تفصیلی اورصفأی سے تيار شدہ نظر آتاہے. جب اسے کوئی کھانے یا مشروبات کے ساتھ لیتا ہےتو ادويات ميں موجود ماليکيول،  بیکٹیریا کے اندر داخل ہو جاتے ہيں. یہ بیکٹیریا کی کمزوریوں کو جانتا ہے. یہ صرف بیکٹیریا کو ختم کر دیتا ہے. اللہ نے یہ اس طرح بنایا. اللہ دونوں کو پیدا کرتا ہے. اللہ کبھی کبھی علاج تخلیق کرتا ہے، اور کبھی کبھی  نہیں کرتا. لیکن ہمارے ٹیسٹ کے ایک حصہ کے طور پر  يہ ايک بے عيب  نظام  موجود ہے. کبھی کبھی منشیات بھی بیماری سے زیادہ پیچیدہ ہوتی  ہیں. میں یہاں پر ایک فارمیسی کو دیکھ رہا تھا. اس میں بہت سی مختلف ادویات ہیں. اللہ نےان سب کو پیدا کیا، مختلف قسم کی ہزاروں ادویات اور مختلف قسم کی ہزاروں بیمارياں ۔ يہ بہت زيادہ ہيں،  یہ لامتناہی سلسلہ ہے. اور اسيطرح بہت سی مختلف ادویات. مثال کے طور پر کسی کو سر میں درد ہے، اللہ ایک خاص نظام کے ساتھ اس کے سر میں درد پیدا کرتا ہے. اس کے لئے ایک ايسی دوا ہے، جو اعصابی نظام ميں جاتی ہے، کسی نہ کسی طرح آناخت ڈھانچہ پر اثر انداز ہوتی ہے، اس کو مکمل طور پر تبدیل کرتی ہے اور سردرد سے  بچاتی ہے اور سکون دلاتی ہے.

جناب عدنان Oktar وضاحت کرتے ہيں کہ اللہ تعالی نے خاص طور پر انسان کی آزمأش کے لئے کمزوریوں کو پیدا کيا ہے اور یہ اللہ ہی ہے جس نے بیماری، ادویات، علاج، ہسپتال اوروہ سب کچھ جو علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے،  پیدا کياہے.

عدنان OKTAR: ... ہميں کمزور ہونے کی ضرورت ہے، تاکہ ہميں ٹیسٹ کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر، ہم نے سردی محسوس کرنی ہے جب  ٹھنڈ ہو جاۓ، بیمار ہو جائں، نزلہ زکام پکڑ ليں، یا کینسر، ورنہ کوئی امتحان نہ ہوتا۔ ہميں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے. جسم کے مسائل ہیں، کیونکہ کامل جسم جنت میں ہی ہو سکتا ہے. اگر جسم کامل تھاتو يہ جنت کيطرح تھی، کيا یہ ايسا نہیں لگتا؟ جِلد کو بوڑھا ہونا ہے، ہڈیاں کمزور ہو جانی چاہئيں، آنکھوں کو اپنی تیزی کھو دينی چاہئے، ایک سماعت کے آلے کی ضرورت پڑھنی  چاہئے. اللہ نے آلۂ سماعت پیدا کيا. مثال کے طور پر، اگر conjunctivitis ہے، تو اس کے لئے اينڑیيسپٹک  قطرے پیدا کئے جاتے ہیں.اللہ اينڑیيسپٹک  قطروں  کی تخلیق کرتا ہے. ان کا خیال ہے کہ اللہ قطرے پیدا نہیں کرتا ہے اور اللہ صرف آنکھ پیدا کرتا ہے. اصل میں یہ اللہ ہے کہ جو قطرے اور آنکھ کی تخلیق کرتا ہے.  مثال کے طور پراگر دماغ میں کویٔ مسئلہ ہے، تو اللہ  امیجنگ کا سامان پیدا کرتا ہے. اللہ ایکس رے کے تحت اسے  دکھا دیتا ہے اور اللہ ایک آپریشن کے ذریعے مسئلہ ٹشو کو ہٹا دیتا ہے۔ کویٔ بھی ڈاکٹر کسی آپريشن کے ساتھ دماغ سے کچھ بھی حذف  نہيں کرسکتا. اللہ ان سب کو ہٹاتا ہے.

کوئی بھی شخص  کسی دوسرے شخص کو قتل نہيں کر سکتا.  اللہ ان سب کو مار دیتا ہے، اللہ صرف انسان کو اس کا ذريعہ بناتاہے. یا اللہ امراض  کواس کا ذريعہ بنا ديتا ہے۔  وہ اس حقیقت کو ديکھ نہیں سکتے ، اور اس وجہ سے وہ غلط خیالات کا شکار ہو جاتے ہیں. اللہ نے مثال کے طور پر بہرا پن بنايا ہے، پھرآلۂ سماعت پیدا کيا ہے.  آلۂ سماعت بہت پیچیدہ ہے،  جو سینکڑوں کی تعداد ميں مختلف اجزاء سے بنا ہوا ہے. تو سب کچھ آپسميں مربوط ہے. مثال کے طور پر،اگر کسی کوزکام ہو جاائے،تو اس سے لڑنے کيلۓ فارميسی ميں مختلف ادویات تیار ملتی ہیں. سب اچھے طريقے سے  پيک ہوتی ہيں۔  اللہ نے ان پیکجوں کو پیدا کيا ہے. اور اللہ پیکیج کے اندر بوتل تخلیق کرتا ہے، اس کے اندر ان تمام ادویات کو، ایک کے بعد ایک رکھا ہوتا ہے. اور پھر اللہ تعالی ان دوائوں کو صحت بحال کرنے کا ذريعہ بناتا ہے اور ہم انہیں باہرسے نہیں دیکھ سکتے، وہ سیاہ زدہ ہیں. اللہ انہيں رنگ اور ذائقہ ديتا ہے جو یہاں ہمارے دماغ میں ہے،. اللہ جسم میں خلیات کو انکی پہچان ديتا ہے، اللہ  منشیات کو حسبِ ضرورت اثر فراہم کرتا ہے. اللہ خلیات کمزور بنا دیتا ہے، وہ اللہ کی طرف سے خاص طور پر کمزورہو جاتے ہیں. لیکن جنت میں اس طرح نہیں ہو گا.

اللہ  نےفولاد کو بہت مضبوط پیدا  ہے، لیکن انسان اتننے مضبوط  نہیں ہیں ،حتیٰ کہ cockroaches  بہت مضبوط ہیں.  اسيطرحمثال کے طور پر، بچھو بہت مضبوط ہیں، وہ بہت صحت مند ہیں، وہ بیمار نہیں ہوتے، اُن کو  کچھ  نہیں ہوتا ہے، وہ کسی بھی چیز سے متاثر نہیں ہوتے. بہت سی زندہ چیزیں اس طرح کی ہيں، جو بہت مضبوط ہیں. لیکن اللہ انسان کے بارے ميں فرماتے ہيں کہ "انسان کو کمزور پیدا کيا گيا ہے" اور وہ کمزور ہے۔اسلۓ کہ اللہ نے کمزوری پيدا کی اور ان تمام نظام کو پيدا کيا جو ہماری کمزوری پر قابو پانے ميں مدد کرتے ہيں ۔مثال کے طور پر، کچھ لوگوں کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور اللہ نے ایک آکسیجن کا سامان پیدا کیا. مثال کے طور پر، ایک آدمی کو دمہ ہے اور اس سے لڑنے کے لئےايک ا سپرے ہے. دمہ اور سپرے سب اللہ کی طرف سے بنائے گئے ہیں، دمہ اور سپرے کی ﷲ تخلیق کرتا ہے. اللہ سپرے کو دمہ سے لڑنے کی طاقت ديتا ہے۔ مثال کے طور پر، اللہ کھاںسی تخلیق کرتا ہے، اور کھاںسی کو روکنے کے لئے ادویات. اللہ  سر میں درد تخلیق کرتا ہے اور پھر اس سے لڑنے کے لئے ایک چھوٹی سی گولی. اللہ ادویات پيدا کرتا ہے، اسے استعمال کرنے کے لئے ہدایات بناتا ہے. يہ تمام چيزيں سر درد کے ساتھ مل کر بنایٔ گئں تھيں.

اگر کوئی سر درد نہ ہوتا توکوئی ٹیسٹ بھی نہ ہوتا .  اگر کوئی نزلہ زکام نہ ہوتا توکوئی ٹیسٹ نہ ہوتا.  اگر کویٔ چیلنج نہیں تو کوئی ٹیسٹ بھی نہیں ہوتا.  مثال کے طور پر،ايک آدمی کو دل کی بیماری، یا بلڈ پریشر کے مسائل ہیں، وہ بلڈ پریشر کی دوا ليتا ہے اور يہ اسے ٹھیک کرديتی ہے. عام طور پر یہ ایک معجزہ ہے کہ انسانوں میں بلڈ پریشر عام سطح پر  رہے، عام طور پراسے ہر انسان کو ماردينا چاہئے، لیکن ایسا نہیں ہوتا ہے. یہ بالکل متوازن سطح پر رہتا ہے. Diastolic، systolic، يہ سب ٹھيک ہيں. اِن کو کون متوازن رکھتا ہے؟ کون اِنکو کنٹرول میں رکھتا ہے؟ جسم میں ایک خاص طریقہ کار ہے. اگر اس طریقہ کار کا توازن تھوڑا سا بھی بگڑ جاۓ، تو بلڈ پریشر فوری طور پر ہمارے دماغ، دل،  اور ہر چيز کو پھاڑڈالے۔ اللہ نے ایک کامل نظام بنايا ہے جو ہر وقت ہر چيز کوچیک کرنے میں لگا رہتا ہے، اور دباؤ ہر وقت صحیح سطح پر برقرار رکھتا ہےنہ بہت کم، نہ بہت زيادہ. اگر یہ بہت کم ہو جاۓ، تو آدمی بے ہوشی میں چلا جاۓ، لیکن اللہ تعالی اسے بہت کم یا بہت زیادہ نہیں ہونے ديتے. لیکن جب یہ زيادہ ہو جاۓ، تو ایک چھوٹی سی گولی، اپنی زبان کے نيچے رکھ لی جاتی ہے يا ايکدوسری اور بلڈ پریشر فوری طور پر اس گولی کی پہچان کرتا ہے، ﷲ اس کا  جواز پيدا کرديتا ہے اور يہ فوری طور پرختم ہو جاتا ہے. اللہ تعالی ان دونوں کو پیدا کرتا ہے. مثال کے طور پر، لوگوں کے پاس بلڈ پریشر کی پیمائش کے آلات ہیں، جنہيں اللہ نے پیدا کيا.  بلڈ پریشرکيساتھ ہی بلڈ پریشر   ماپنے کے آلہ کو پیدا کيا گيا ہے.اسيطرح مثال کے طور پر، دانتوں کے ڈاکٹر اور دانت میں درد ایک ساتھ بنائے گئے ہیں. مثال کے طور پر، دانت میں درد کے علاج کے لئے جو سازوسامان استعمال ميں آتا ہے،  وہ عمومی شکل ميں دانت سے زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے. بيشک دانت سے متعلقہ تفصیلات اتنی پیچیدہ ہیں،جو breathtaking ہيں.

کوئی مادیت پرست اس کی وضاحت بھی کرنے کی کوشش نہيں کر سکتا. لیکن جب آپ  سامان باہر سے ديکھتے ہیں تو يہ بہت تفصیلی، پیچیدہ، اچھا لگتا ہے. جیسا کہ دانت تنزل پذیر ہونا  شروع ہوتا ہے، يہ ٹولز پیدا کرديۓ جاتے ہیں، ساتھ ہی دانتوں کے ڈاکٹر بھی. یا مثال کے طور پر، ایک ٹانگ کو کچھ ہو گیا تو، wheelchairs بنائے گئے ہیں. اللہ wheelchairs بنواتا ہے اور مسئلہ بھی. گاڑی مسئلہ کے ساتھ مل کر پیدا ہوتی ہے. تو ایک ہی وقت میں بہت سی چیزیں پیدا ہو جاتی ہیں، ہر کوئی سوچتا ہے کہ وہ آزاد ہیں. ان سب کو ایک ہی وقت ميں تخليق کيا جاتا ہے. مثال کے طور پر، عينک کو نظر کے مسئلہ کے ساتھ مل کر بنايا  گيا ہے.آپ عينک لگاتے ہيں اور مسايل ختم ہو جاتے ہيں۔  آپ کو پتہ ہے کہ اب وہ آنکھوں پر آپريشن کر رہے ہيں  اور وہ ان سے نظر درست کر ديتے ہيں.دراصل اللہ  درست کر رہا ہوتا ہے  اور علاج کر رہا ہوتا ہے. لیکن يہ  چيزيں پيدا کی جاتی ہيں تاکہ ہم ان کے بارے ميں سوچيں، ورنہ کوئی امتحان نہيں ہوسکتا. ہمارے امتحان کے لئے کوئی دوسرا نظام نہيں ہے، کوئی اور  نظام نہيں ہے، واحد يہی راستہ ہے.

بس اس کے بارے میں  سوچيں، ان کے بغیر لوگوں کو صبر، رحم، بخشش، مدد، برداشتگی يا  مشکلات میں ثابت قدمی  کے بارے میں  کچھ پتہ نہیں ہوتا . ہم بہت سادہ سی ايسی مخلوق ہوتے جو صرف کھاتی ہے. لیکن اللہ نے ان تفصیلات کے ساتھ، ہم  انسانوں کو بہت پیچیدہ، شدید اور تفصیلی بنا دیا ہے.

2012-11-14 13:56:25

About this site | اپنا ہوم پیج بنائیں | Add to favorites | RSS Feed
اس ویب سایئٹ کا حوالہ دے کر، تمام مواد کاپی، پرنٹ اور مفت بانٹا جا سکتا ہے
(c) All publication rights of the personal photos of Mr. Adnan Oktar that are present in our website and in all other Harun Yahya works belong to Global Publication Ltd. Co. They cannot be used or published without prior consent even if used partially.
۲۰۰۴ ہارون یٰحی
page_top