UR.HARUNYAHYA.COMhttp://ur.harunyahya.comur.harunyahya.com - مضامین - حالیہ اضافہurCopyright (C) 1994 ur.harunyahya.com 1UR.HARUNYAHYA.COMhttp://ur.harunyahya.comhttp://harunyahya.com/assets/images/hy_muhur.png11666How vital is terror in the East? - URDU LANGUAGE

http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/11-07-2016/details.aspx?id=p13_10.jpg

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/225294/how-vital-is-terror-inhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/225294/how-vital-is-terror-inhttp://imgaws1.fmanager.net/Image/objects/6-makaleler/nai_baat_adnan_oktar_how_vital_is_terror_in_the_east_2.jpgWed, 13 Jul 2016 14:31:52 +0300
Turkey enters new era - URDU LANGUAGE

http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/30-05-2016/details.aspx?id=p13_11.jpg

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/224043/turkey-enters-new-era-http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/224043/turkey-enters-new-era-http://imgaws1.fmanager.net/Image/objects/6-makaleler/daily_nai_baat_adnan_oktar_turkey_enters_new_era_2Sat, 25 Jun 2016 18:42:34 +0300
یورپ میں نسلی تعصب : ذمہ دار کون؟


عالم مغرب
ہارون یحییٰ

    جن لوگوں کو تاریخ سے تھوڑی بہت دلچپسی ہے، انہیں بخوبی معلوم ہے کہ نسلی تعصب، یورپ  کے چہرے پر ایک دھبے کی مانند ہے. دیگر بہت سے منفی اور جمہوریت کے رنگ میں رنگے گئے اور روشن خیال مذاہب کے نزدیک، نسلی تعصب ابھی تک تاریخ کی کتابوں تک ہی محدود رہا ہے. نسلی تعصب پر مبنی رجحانات کے علاوہ متشدد کارروائیاں، جن کے متعلق یورپ اور امریکہ کا خیال ہے کے یہ ماضی کا قصہ ہیں، سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بیماری، کبھی بھی دور نہیں ہوئی-

    نسلی تعصب کے متعلق امریکہ کا اپنا نظریہ ہے جبکہ یوروپ میں اس کا اظہار اس وقت ہوا جب یوروپیوں نے مسلم دشمن رویہ اپنانا شروع کردیا. یوروپ کے مختلف حصوں میں مساجد پر حملے اور مسلم مخالف مظاہرے, مسلمانوں کے خلاف یورپی تعصب کی علامت ہیں لیکن جرمنی میں مسلمانوں کے خلاف نسلی تعصب انتہا کو پہنچ چکا ہے.

    جرمنی میں ایک مسلم مخالف تنظیم، روزانہ کی بنیاد پر مسلمانوں کے خلاف مظاہرے کررہی ہے جن کے دوران مظاہرین یہ نعرے بلند کرتے ہیں "ہم مسلمانوں کو اپنے ملک میں نہیں دیکھنا چاہتے". یہ مظاہرے جرمنی کے ایک ایسے شہر ڈریسڈن میں ہوتے ہیں جہاں مسلمانوں کی تعداد  زیادہ نہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ تنظیم، جرمنوں کو مسلمانوں کے خلاف تشدد اور دہست گردی پر اکسارہی ہے. اس تنظیم کا مقصد یہ ہے کے یوروپ میں سے مساجد نابود ہوجائیں. یوروپ بھر میں مساجد پر حملے روزانہ کا معمول بن چکا ہے. جرمنی کے زیادہ تر سیاست دانوں کی طرف سے ان مظاہروں کی مذمت میں ایک فقرہ بھی سامنے نہیں آیا.

    یہ امر قابل تحسین ہے کے کرسمس کے موقع پر جرمن چانسلر نے اپنی تقریر میں ان مظاہرین کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا:

    "ان لوگوں کی طرف توجہ مت دیں جو جرمنی کو تنہا کر دینا چاہتے ہیں. جو لوگ، ہمارے ملک میں باہر سے آنے والے لوگوں کے لیے نفرت کا اظہار کررہے ہیں، ان لوگوں کے لیے ہمارے ملک میں کوئی جگہ نہیں".

    مزید برآں، جرمنی کے وزیر انصاف نے بھی کہا ہے کہ مسلم مخالف یہ مظاہرے، یورپ کے لیے باعث تحقیر ہیں. اس کے علاوہ چرچ، سیاسی جماعتوں اور فنکاروں کی طرف سے ان مظاہرین کی مذمت کے لیے جوابی مظاہرے کیے گئے ہیں.

    اگرچہ مندرجہ بالا بیانات اور اقدامات لائق تحسین ہیں، لیکن کافی نہیں. محض لب کشائی اور علامتی اظہار کے ذریعے نسل پرستوں کو مسلم مخالف اقدامات سے باز نہیں رکھا جا سکتا اور ان مسلم مخالف مظاہروں کی روک تھام کرنے کے لیے ٹھوس کاروائیاں درکار ہیں. جس طریقے کے ذریے جرمنی کی مرکزی حزب مخالف نے مارکل پر نسل پرستانہ مظاہروں میں اضافے کا الزام عائد کیا ہے، اسے بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے. جرمنی کی حزب مخالف نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف یہ ماحول، ان پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو ماضی میں اختیار کی گیئں.

    نسلی تعصب ایک نفسیاتی عارضہ ہے. یہ عارضہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک گروہ، اپنے سے کمزور گروہ کو کچل دینا چاہتا ہے. اگرچہ یہ بھی درست ہے کہ نسل پرست، نفسیاتی طور پر بیمار ہوتے ہیں لیکن دیگر عناصر جن کے باعث ان کی اس بیماری میں اضافہ ہوتا ہے، کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چائیے.

    کم علمی کی بنا پر بہت سے یوروپی، مسلم عسکریت پسندوں کو اسلام کے مترادف سمجھتے ہیں. اس کے برعکس، اسلام امن کی تبلیغ کا ایک ایسا مذھب ہے جو معاشرے میں انسانوں کے مساوی حقوق کا حامی ہے. یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت مسلمانوں کی بڑی تعداد قرانی تعلیمات سے بے بہرہ ہے.

    برحال، نسلی تعصب کے مسلے کو حل کرنے کے لیے ہمیں یہ نہیں سمجھنا چائیے کہ اس کی پہل یوروپ کی طرف سے ہو. بطور مسلمان، ہماری بھی ذمداری ہے کہ ہم نسلی تعصب کے مسلے کو ختم کرنے کے لیے یوروپیوں کے ساتھ محبت و پیار کے ساتھ پیش آییں. ہمیں اپنے اندر بھی باہمی اعتماد اور ہم آہنگی پیدا کرنی چاہے. ہمیں دنیا کے سامنے اسلام کا حقیقی چہرہ پیش کرنا چاہے جو محبت اور دوستی کا علمبردار ہے. یہ ہماری حماقت ہو گی کہ ہم نفرت کے عوض محبت اور دوستی کے طلبگار ہوں.

    (بشکریہ: عرب نیوز، ترجمہ: ریاض محمود انجم)

  

http://www.arabnews.com/columns/news/687271

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/196963/یورپ-میں-نسلی-تعصب-http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/196963/یورپ-میں-نسلی-تعصب-http://imgaws1.fmanager.net/Image/objects/6-makaleler/adnan_oktar_arab_news_racism2.jpgTue, 20 Jan 2015 08:10:17 +0200
To be in a position of someone who 'guards, protects and watches over', to be a person with the character of a 'Protector' - Urdu

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/162383/to-be-in-a-positionhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/162383/to-be-in-a-positionTue, 07 May 2013 20:42:19 +0300
A question that people must constantly ask themselves: Do I always bear in mind the fact that Allah creates all things? - Urdu


]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/162137/a-question-that-people-musthttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/162137/a-question-that-people-musthttp://imgaws1.fmanager.net/Image/objects/6-makaleler/The-Blue-Flowers.jpgThu, 02 May 2013 13:30:44 +0300
ڈارونی افراد کا جھانسا تمام انسانیت کے خلاف ایک شرمناک حرکت ہے!  


سابقہ 150 سالوں سے عوام کو با ضابطہ طور پر ڈارون کی تھیوری پر یقین کرنے کے لیے مجبور کیا گیا ہے۔

دنیا کے لیے بالآخر لازمی ہوگیا ہے کہ اس باطل کو اب ختم کردیا جاۓ جس کا نام "ڈاروینیزم" ہے۔

ڈاروینی لوگوں نے ان 350 ملین آثار متحجّرہ (فوسل) کو چھپایا ہے جو تخلیق کو ثابت کرنے میں اہم کردار نبھاتے ہیں۔ انھوں نے اس حقیقت کو بھی چھپایا ہے کہ تغیرپذیر فوسل کسی بھی صورت میں موجود نہیں ہے!

انھوں نے اس حقیقت کو بھی دنیا سے چھپاۓ رکھا کہ کوئی بھی لحمیہ (پروٹین) اتفاقا" وجود میں نہیں آسکتا اور لوگوں کو اس جھوٹ پر یقین کرنے پر مجبور کیا کہ "زندگی اتفاق سے وجود میں آئی ہے۔"

انسانی فرضی ارتقا کے لیے انھوں نے مصنوعی کاسۂ سر کی جانب بطور ثبوت اشارہ کیا۔  

انھوں نے فریب کا ارتکاب کیا ہے۔ انھوں نے فرضی فوسل بنائیں اور سالوں نہایت بے شرمی سے ان کا مظاہرہ کیا ہے۔

انھوں نے درسی کتابوں میں ارتقا کے لیے بطور فرضی ثبوت، "اکوائن ایوؤلوشن سیریس" کا استعمال کیا جسے غلط جانا جاتا ہے۔

انھوں نے "انڈسٹریل ایوؤلوشن ماتھز" کے استعمال کی بھی کوشش کی جسے انھوں نے پتنگوں کو (پروانوں کو، ماتھز ) درختوں پر چپکا کر بنایا اور ارتقا کا قدرتی انتخاب کے ثبوت کے طور پر ان کے فوٹوز کھینچیں۔

انھوں نے کیمبرئن فوسلز کو 70 سالوں تک چھپاۓ رکھا جو تخلیق کے پختہ ثبوت ہیں۔

انھوں نے اس جھوٹ کو پھیلایا کہ تغیّر اور قدرتی انتخاب زندگی کی نئی ضورتوں کو جنم دیتے ہیں جبکہ یہ بیان سائنسی طور پر ناممکن ہے!

اور اب وہ ان فوسلز سے سہمے ہوۓ ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ ارتقا وقوع پذیر ہوا ہی نہیں!

 فوسلز جن سے لوگوں کا اکثر ان کے باغیچوں میں، سمندر کے کناروں پر یا زیر زمیں معدنی کانوں میں سامنا ہوتا ہے اور کسی بھی شخص کو وہ آسانی سے مل سکتے ہیں وہ ڈاروینی لوگوں کے لیے لفظی طور پر، کابوس میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

عمل ارتقا کی تعلیم اور فروغ یہ سومیرینز سے ایک ملحد کی جانب سے ہم تک آئی ہے، جسے ڈارونی حکم شاہی نے جبرا" عائد کیا جبکہ جو فوسلز تخلیق کے مستند اور ٹھوس ثبوت ہیں، انھیں ظاہر کرنے اور ان پر تبادلۂ خیالات کرنے سے باز رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔

 ان کا مقصد کمیؤنسٹ، ملحد اور مادّہ پرستوں کے دباؤ میں آکر ان سائنسی حقائق کو چھپاۓ رکھنا ہے۔ ڈاروینی افراد کو درپیش سائنسی حقائق کا ڈر ان کے نظریاتی نظام کی بدبختی کا ثبوت ہے۔

ڈاروینی افراد ان کے نظریاتی نظام پر اگر واقعی میں پریقین ہیں تب سائنس سے منکشف حقائق پر انھیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ سابقہ صدی کے فسطائی (فاشزم) طریقوں کو سائنس میں لپیٹنے کی کوشش کرنے کی بجاۓ، اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہے تب، انھیں چاہیے کہ ان کا خود کا ثبوت پیش کریں۔ لیکن وہ ایسا کبھی بھی کر ہی نہیں سکتے کیونکہ ارتکا کی حمایت میں کوئی ایک بھی سائنسی ثبوت نہیں مل پایا ہے۔ اسی لیے سائنس عمل ارتقا کو مسترد کرتا ہے!     

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/157393/ڈارونی-افراد-کا-جھانسا-تمامhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/157393/ڈارونی-افراد-کا-جھانسا-تمامhttp://imgaws1.fmanager.net/Image/objects/6-makaleler/8310_darwinizmden_destek_alan_romantik_milliyetciligin_karanlik_yuzu.jpgSat, 26 Jan 2013 20:13:57 +0200
اختتامِ اوقات میں سب سے بڑا مسئلہ: ایمان کی کمزوری  

· ایمان کی کمزوری پر قابو پانے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟

· آج  کےمعاشروں پر ایمان کی کمزوری کے کيا تباہ کن اثرات پڑ رہے ہيں؟

· عقیدے کی کمزوری اوراِس مسئلے پر قابو پانے کی تجاویز  کے بارے میں جناب عدنان آکٹر کے خیالات  کيا ہیں؟

ciceksepeti

 اللہ تعالی نے قرآن پاک میں دو اہم نکات کی طرف توجہ مبزول کرایٔ ہے. ان میں سے ایک لوگوں میں ایمان کی کمزوری ہے. اللہ نے قرآن  پاک میں وضاحت کی ہے کہ لوگوں کی اکثریت کی حقیقی روحانی بیماری اللہ پر ايمان لانے یا اس کی  کافی تعریف نہ کرنے کی وجہ نہيں ہے بلکہ:

"صرف اس صورت میں اگر ہميں ایک دوسرا موقع مل جاۓ تو ہم مومنوں میں سے ہونگے!" اس بات ميں یقینی طور سے ایک نشانی ہے، لیکن ان میں سے اکثر ايمان نہیں رکھتےہیں. "(سورت الشعرا، 102-103)

لوگوں کی اکثریت ایمان کی کمزوری میں مبتلا ہے، اور ہمارے رب نے قرآن میں ایمان کی اہمیت پر بہت توجہ دلایٔ ہے:

"وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ايمان رکھتے ہیں، اور حق کا حکم  ديتے ہيں اور غلط باتوں سے منع کرتے ہيں، اور اچھے کام کرنے میں مقابلہ بازی کرتے ہين. وہ صالحین میں سے ہیں "(سورہ ال عمران، 114).

دوسری بات جسکی طرف اللہ تعالی قرآن پاک میں توجہ دلاتا ہے وہ اسلام کی یونین ہے. ایک آیت میں، ہمارے رب تعالی نے اسلام کی یونین کی اہمیت کے  بارے ميں يوں فرمايا ہے:

"اللہ تعالی نے ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہيں اور صحیح اعمال کرتے ہیں وعدہ کيا ہے کہ ان کو زمین میں جانشین مقرر کرديگا جيسا کہ اس نے  پہلے لوگوں  کو جانشین بنايا، اور ان کے لیے بھر پور طریقے سے ان کے مذہب کا جس سے وہ خوش ہے قائم کريگا اور انہيں خوف کی جگہ امن عطا کريگا۔ 'وہ میری ہی عبادت کریں، میرے ساتھ کسی کو منسلک  نہ کريں.' کوئی بھی جو اس کے بعد کفر  کریں، ایسے لوگ گمراہ کن ہیں ... "(نور، 55)

تاہم، کچھ لوگ ان دو اہم نکات سے لا علمی کا اظہار کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہيں  کہ اصل نقطہ جس پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے اسلام کے احکام کا ہے. لیکن، سب کچھ اسلام کے احکام کے بارے میں جاننے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ شخص ایک بہت مضبوط ایمان رکھتا ہے. اسلام کے احکام نماز، وضو اور دیگر مذہبی رسومات کے بارے ميں  تفصیلی وضاحت شامل کرتے ہیں. تاہم، یہ معلومات ایک شخص کو واقعی وفادار بنانے کے لئے کافی نہیں ہيں.

مذہبی مشاہدات کو  خوشی اور حوصلہ افزائی کے ساتھ اور صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لئے اور اس کيساتھ ایمان کی خوبصورتی سےبھی لطف اندوز ہونے کيلٔے ایک بہت مضبوط ایمان کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح کا مضبوط ایمان رکھنے والا شخص خوشی سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھاۓ گا اور جتنا ممکن ہو سکے  اسلامی یونین اور مواصلات کی  نشانیوں جو ايمان کی پختگی کيطرف ليجاتی ہيں کو مقصد بنائگا۔

عدنان آکٹر: جب ہم قرآن پاک میں دیکھتے ہیں، ہم دیکھتے ہیں، کہ دو اہم نکات ہیں. ایک ایمان کی کمزوری ہے، ایمان کی اہمیت ہے، اور دوسرا اسلام کی یونین ہے. یہ قرآن کے ہر صفحے میں ہے. لیکن بہت سے لوگ اس حقیقت سے لا علمی کا اظہار کرتے دیں. وہ مجھ سے 'اسلام کے احکام' کے بارے میں بات کرنے کے لئے پوچھتے رہتے ہيں ۔ چلو ٹھیک ہے میں اسلام کے احکام کے بارے میں بات کرتا ہوں. . مجھے نماز، وضو کی تفصیلات دينی ہيں.  توجب میں اس کی وضاحت کرتا ہوں،تو کيا آپ نماز ادا کرنی شروع کر دينگے؟ مساجد میں بہت سے امام، نماز نہیں کروائنگے اگر اُنکو اس کے لئے پيسے ادا نہیں کیۓ جائنگے ؛ کيونکہ ان کو  مسجد کے امام کے طور پر کام کی ادائیگی کی جاتی ہے. اگر وہ مسجد میں نماز کی ادائگی  نہیں کر رہے، تو زیادہ تر اپنے وقت پربھی ایسا نہیں کر رہے. ايسے بہت سے لوگ جن کے بارے میں آپ سوچتے ہیں  کہ مز ہبی ہيں  اصل میں نماز کی ادائگی نہیں کر رہے ہوتے. میں نے یہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا، میں اسے جانتا ہوں. مثال کے طور پر، ایک مسجد کے امام،  کے بارے ہم کہتے ہيں کہ وہ چھٹی پر چلے گئےہيں- یہ صرف ان میں سے کچھ کے لئے سچ ہے، بيشک سب کے بارے نہیں- وہ صبح کی نماز کے لئے بيدار نہ ہوۓ، صرف اندر  سوتےرہے۔ وہ دوپہر میں نماز کراتے ہيں، انہوں نے کہا کہ نماز ملتوی کر دی '. وہ بہت لا تعلق لوگ ہیں. وہ لوگ جو مجھے اِسوقت سن رہے ہیں سرہلا رہے ہيں  اور فی الوقت میری باتیں قبول کر رہے ہيں. بہت سے لوگ جوآپ کے خیال میں مذہبی  ہيں ، حتیٰ کہ کافی مشہور مذہبی لوگ بھی، بمشکل ہی نماز ادا کر رہے ہوتے ہيں. لیکن ایک شخص جو ایمان کی خوشی سے لطف اندوز ہوتا ہے، جس کا ايمان اتنا گہرا ہوتا ہے کہ جيسے آنکھوں دیکھا،  جوش و جذبے سے نماز ادا کريگا اور اس کی زندگی کا واحد مقصد اسلامی یونین اورايمانی علامات کی تشہيرہوگا جس سے  اللہ کی رضا ہو. اس شخص کا بنیادی مقصد یہ ہو جائے گا. اس کے عقیدے کی مضبوطی کے لئے، اُسے قرآن اور محمد رسول اللہؐ کے معجزات سے آگاہ رکھنا چاہئے۔ (4 فروری 2012، A9 ٹی وی)

عدنان oktar_agustos2007_3_09  احادیث میں يہ پیشن گوئی کی گئی تھی کہ اختتام اوقات میں کفرغالب ہو گا

اوقات کے اختتام کے بارے میں احادیث میں محمد رسول اللہؐ، وقت کے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک، يعنی کفر اور ايمان کی کمزوری کے بارے میں فرماتے ہيں:

"ایک وقت آئے گا جب ایک شخص جو اپنے ايمان پرڈھٹا ہوگا اُس شخص کی مانند ہوگا جس نے کہ ہاتھ میں شعلہ تھاما ہؤاہو۔(" سنن ترمذی حدیث نمر۷۳ فتان، ابوداؤد ، ملاحم،۷۱

 احادیث میں یہ واضح طور پر وضاحت کی گئ ہے کہ مسيحؑ کے مخالف ایمان کو براہ راست نشانہ بنائں گے جس سے مسلمانوں کے عقیدے کمزور ہوتے چلے جائيں گے. ہمارے رسول نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ آخری اوقات میں لوگوں کے عقیدے بڑی حد تک کھو جاينٔنگے اور اس طرح کی بیماری بارِ آخر میں سب سے بڑی مصیبت بن جائے گی:

حضرتِ انس (رضی اللہ عنہ) سے متعلق ہے: "محمد رسول اللہؐ وضاحت کرتے ہيں:" اس سے پہلے کہ فیصلے کا دن ٹوٹ پڑے، رات کے کچھ حصوں کی طرح بحران ہو جائے گا. (جب وہ ہوتا ہے)کؤی شخص ایک مومن کے طور پربيدار ہوگا اور ایک کافر کے طور پر سوجائگا اور  ايک مومن کے طور پر سوجائگا اور ایک کافر کے طورپر بيدار ہو جايئگا.  بہت سے لوگ بہت ہی تھوڑا سا دنیاوی فائدہ حاصل کرنے کے بدلے اپنے مذہب کو بیچ ڈاليں گے "(ترمذی، 30 فتن، 2196)

لوگ ایسے وقت میں رہيںگے کہ جب، کسی کا ايمان پر قأيم رھنا اتنا ہی دشوار لگے گا جتنا کہ ہاتھوں میں شعلہ پکڑنا. کیونکہ ان دنوں مومنين (جو بہت زيادہ توہین کا نشانہ بنأے جائينگے)، کی قدروقیمت جانوروں سے بھی کم ہو جائگی. بہت سے لوگ يہ دباؤ اور توہین برداشت نہيں کر پاينگے. کمزور مغلوب ہو جائنگے اور بہت تھوڑے  دنياوی فائدے کے بدلے اپنے مذہب کی تجارت کريں گے. رات اور دن ایسے وقت لے آئيںگے،جب کؤی اٹھے گا اور زور زور سے کہے گاا: 'کون دنیاوی خوشی کی ایک بہت چھوٹی رقم کے عوض ہمیں اپنے مذہب (ایمان) کی فروخت کر یگا؟ ' بے شک اُسے بہت سے جواب موصول ہونگے: "بہت سے لوگ دنیاوی خوشی کی ایک بہت چھوٹی رقم کے عوض اپنے مذہب فروخت کردينگے. "

جیسا کہ مندرجہ بالا احادیث میں دیکھا جا سکتا ہے، ہمارے  نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کے احکام کے بارے میں لوگوں کے علم کے ساتھ کسی بھی مسائل کا ذکر نہیں کر تے کیونکہ آج اسلامی دنیا میں موجودہ مسائل، تنازعات، عوام کے مصائب  جو رونما ہو رہے ہيں اسلام کے احکام کے بارے میں علم کی کمی کی وجہ سے نہیں ہور رہے ہیں اور یہ لوگوں کے لئے بہت غلط خیال ہے کہ ایسی صورتحال تعلیم کی کمی کا نتيجہ ہے.

وہ فوجی جو کہ مصر، شام، لبنان میں عوام کا قتلِ عام کر رہے ہیں، تمام عربی لوگ ہيں جو قرآن  پاک  اچھيطرح جانتے ہیں. ان میں سے بہت سے لوگوں کو قرآن  پاک کے بارے میں تعلیم دی گيٰ اور انہوں نے قرآن  پاک پڑھا ہے. اگر ایک شخص قرآن کے بارے میں جاننے کی خواہش رکھتا ہے یا قرآن کی ایک کاپی حاصل کرنا چاہتا ہے، یہ  بہت آسان  ہے، کيونکہ قرآن پاک بہت آسانی سے قابلِ رسائی ہے، ہر جگہ ہر زبان میں دستیاب ہے. یہ انٹرنیٹ پر بھی ہے. تاہم، اکیلے قرآنِ پاک کو پڑھنا ہی کسی  کيلۓ اللہ پر ایمان لانے کيلٔے کافی نہیں ہے.  کيونکہ سب سے پہلے اللہ پر بہت سخت  ايمان اور پھر جتنا ممکن ہوسکے اللہ سے ڈرنا ہی ایک مضبوط ایمان کی بنیاد ہے. یہ قرآن مجید میں مندرجہ ذیل طريقے سے بیان آتا ہے:

"آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے ہدایت نہیں کرينگے. آپ کسی کوہدايت سنوا بھی نہيں سکيں گےسوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ہماری نشانيوں پر اعتماد کيا ہے اور جو مسلمان ہیں۔‘‘

(سورت ار رم,  53)

عدنان آکٹر: لوگ اسرائیل فلسطین، شام میں مصأيب کا شکار ہیں. بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تعلیم کی کمی کی وجہ سے ہے. وہ تمام  فوجی جوشام میں قتل و غارت گری کررہے ہیں قرآنِ پاک بالکل اچھی طرح سے جانتے ہيں. انہوں نے قرآن پڑھا ہے، وہ اسے مکمل طور پر جانتے ہیں. انہوں نے بچپن ميں قرآنِ پاک کی تربیت حاصل کی. تو یہ اسلام کے احکام کے بارے میں نہیں ہے. لیکن ان کا اللہ پر کوئی یقین نہيں ہے. قرآنِ پاک سیکھنا بہت آسان ہے، قرآنِ پاک کی ایک کاپی حاصل کریں. قرآنِ پاک ہر جگہ ہے. اور یہ ہر زبان میں ہے، انٹرنیٹ پر بھی ہے. لیکن اکیلے قرآنِ پاک پڑھ لينے سے لوگ اللہ پر ایمان حاصل نہیں کریں گے. سب سے پہلے انہيں اللہ پر یقین کرنا ہے، اور اللہ سے ڈرنا ہے. آیت میں ہمارے رب کا کہنا ہے کہ: "آپ صرف ان ہی کو خبردار کر سکتے ہیں جو نصیحت پر عمل کريں اوراُس بڑے رحیم مہربان ذات سے غائبانہ ڈرنے والے ہوں." (سورہ یا سين ا، 11) جب انسان اللہ سے نہيں ڈرتا ہے، تو 'قرآن پڑھنے کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا. یہی وجہ ہے کہ ہم ایمان کی علامات پر اتنی زیادہ توجہ مرکوزرکھتے ہيں اور یہی وجہ ہے کہ ہم بہت مؤثر ہیں. لیکن انتہا پسندوں کويہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی ہے، اسلئے وہ ہماری جدوجہد کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں. تاہم جونہی وہ ہمیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ ہمارے لئے زیادہ پبلسٹی  کا باعث بن جاتی ہے اور ہم پہلےسے بھی زیادہ جانے جاتے ہيں۔ (4 فروری،   2012 ٹی وی اے 9).

ایمان کی کمزوری آج کے مسلم معاشروں کے مصائب کی بنیادی وجہ ہے

حقیقی اور سچا یقین صرف اللہ کيساتھ گہرایٔ سے منسلک ہوجانےاوراُسکے تمام احکامات کو غیر مشروط طور پر بجا لانے کے ذريعے سے حاصل کیا جا سکتا ہے.  کؤی شخص تمام قابلِ ستائش انسانی خصوصیات کو صرف اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے  ہی حاصل کر سکتا ہے. اللہ قرآن پاک ميں نیکی، انصاف، صبر، بے غرضی، وفاداری، يک جہتی، اطاعت، شرم و حياء، رواداری، ہمدردی، رحم، غصے پر قابو اور بہت سی دوسری اعلٰی انسانی خصوصیات پر مشتمل احکامات ديتا ہے. قرآن نے واضح طور پر تمام غیر اخلاقی کارروائیوں پر پابندی لگا دی ہے. ان اعلٰی اخلاقی اقدار کے ساتھ زندگی گزارنے کا مطلب اللہ سے خوف رکھنا اور اپنے ضمیر کے تابع ہونا ہے کيونکہ جوکویٔ  اللہ سے زيادہ سے زيادہ خوف رکھيگا اور اپنے ضمیر کی اطاعت کریگا وہ اُتنا ہی ﷲ کے احکامات کی زيادہ فرمانبرداری کريگا. ورنہ قرآن کی اخلاقیات کے مطابق زندگی نہيں گزار سکےگا۔  یہاں تک کہ اگر وہ کبھی کبھی کچھ اچھی اخلاقی اقدار ظاہر کرتاہے ليکن جونہی کویٔ چيز اس کے خلاف ہو جائے تو وہ مکمل طور پر تبدیل بھی ہو سکتا ہے. لہذا اللہ پر مضبوط ایمان قائم کرنا کچھ اتنا آسان کام نہيں ہے جب تک ایک مخلص  نہ  ہو جاۓ. اِس کی وضاحت مندرجہ ذیل آیت میں اِسطرح کی گٔی ہے: "ریگستان عرب کا کہنا ہے کہ، 'ہم یقین رکھتے ہيں.' فرما دیجئے: تمہیں یقین نہیں ہے. بلکہ کہو، "ہم مسلمان ہو گۓ ہيں ،" ایمان ابھی تک آپ کے دلوں میں داخل نہيں ہؤا ہے. اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہو، تو وہ کسی بھی طرح سے تمہارے اقدامات کی کم قدری نہیں کرے گا. اللہ ہميشہ سے معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ "(ال حجرات، 14)

آج مسلم معاشروں کے مسائل کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ میں مخلصانہ یقین نہیں رکھا ہے. ایمان کی کمزوری کی وجہ سے پيدا شدہ مسائل میں سے کچھ مندرجہ ذیل کے طور اندراج کیے جا سکتے ہيں:

ایمان کی کمزوری کی وجہ مسلمانوں کا منقسم ہونا اورمتحد نہ ہونا ہے

"اللہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو  سيسہ پلایٔ دیواربن کر صفوں میں اس کی راہ میں لڑتے ہیں." ​​(صاف، 4) قرآنِ پاک میں اللہ کا حکم ہے، جوظاہر کرتا ہے کہ مسلمانوں کو متحد ہونا چاہئے. لہذا کسی بھی قسم کی علیحدگی کے خلاف لڑایٔ اور  مسلمانوں  کواس خطرے کے بارے انتباہ کرنا مسلمانوں کے سب سے زیادہ اہم فرائض میں سے ایک ہے. تاہم، ان لوگوں کے جو ایمان کی کمزوری میں مبتلا ہیں، اور صرف تماشأی بن کريہ کہنے کی خواہش رکھتے ہيں کہ ‘ جب تک یہ مجھے چوٹ نہیں کرتا مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔تاہم اس طرح کی دماغی حالت ناقابل قبول ہے. قرآن کے مطابق، ایک مسلمان مسلمانوں کی موجودہ منقسم حالت سے لا تعلقی نہیں برت سکتاہے اوراُسے قرآن پاک کی اتحاد کے احکامات کے بارے ميں آیات کو نظر انداز نہیں کرنا چاۂےاور نہ ہی يگانگت سے گریز کرنا چاہئے. کمزور ایمان کے ساتھ  زندگی گزارنے والے لوگ قرآن کی آیات کو واقعتاً نہیں سمجھ پاتے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ  نمازاور روزے کی طرح مسلمانوں کے لئے اسلامی یونین کی ذمہ داری بھی سمجھ نہیں پارہے.انہيں یہ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اُنکے درميان  تقسیم بالکل اُسيطرح غیر قانونی ہے جيسےکھانے ميں سور کا گوشت یا پینے کيلئے شراب. قرآن کے مطابق اِن غیر قانونی اقدامات کی دو مختلف اقسام کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے.  اگرمسلمان متحد ہو جائں تويہ تمام دنياوی درد اورمسائل فوری طور پر حل ہو جائينگے. اللہ نيچے دی گٔی ایک آیت میں فرماتا ہے:

وہ جوکفار ہیں ایک دوسرے کے دوست اور محافظ ہیں. اگر آپ اس طرح سے کام نہیں کرتے تو زمين ميں بحران اور بڑی کرپشن ہو جائے گی. (انفال 73)

اہل کتاب سے دشمنی ایمان کی کمزوری کا ایک اور نتیجہ ہے

اللہ کے ہاں مذہب اسلام ہے. مسلمان چاہيں گے کہ تمام لوگ "لاَ اِلہَٰ ِالاﷲ" کہيں،بہ الفاظِ ديگر وہ ان کو مسلمان ديکھنا چاہتے ہيں اور اس مقصد کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ  نےقرآنِ پاک میں یہودیوں اور عیسائیوں کا نام اہل کتاب کے لوگوں کے طور پر ليا اور تفصیلات ديں کہ کس طرح مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان تعلقات استوار ہونے چاہئيں. اسلام کی پیدائش کے ساتھ ہی مسلمانوں نے اہلِ کتاب سے محبت اور احترام قائم کرنے کی بے انتہا کوشش کی ہے. بلآخر، اہل کتاب، گو کہ ان کی کتابوں کے حصے کو بعد میں تبدیل کر دیا گیا تھا، مسلمانوں کی ظرح مِلتی جُلتی اخلاقی اقدار اور  تصورات پر عمل پيرا ہوتے ہيں جواصليت ميں  اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہیں ۔

اسلام امن، محبت، اور افہام و تفہیم کا مذہب ہے. تاہم، وہ لوگ جو ایمان کی کمزوری سے دوچار رہتے ہیں، مسلمانوں اور اہل کتاب دونوں کے سامنے اسلام کی نمائندگی ایک خراب روشنی میں کرتے ہیں. اسلام ہمیں اس دنیا کو امن اور خوشحالی والی جگہ بنانے کے احکامات  ديتا ہے، تاہم يہ لوگ اسلام کو مکمل طور پر اِسکے برعکس دکھاتے ہيں اور دعوٰی کرتے  ہيں کہ مسلم اور دوسرے مذاہب کے اراکین کے درمیان تصادم اور جنگ ہے. تاہم، اللہ مسلمانوں کو احکامات ديتا ہے کہ وہ یہودیوں اور عیسائیوں جنکو اہلِ کتاب کہا جاتا ہے، کيساتھ بہت شفقت اور اِنصاف پسندی سے پيش آئں.

اللہ نے قرآنِ پاک میں بہت سی آیات میں مسلمانوں کو حکم دیا کہ مسلمانوں کو اہل کتاب سے دوستی رکھنی چاہئے. اللہ قرآنِ پاک میں مسلمانوں کو ان کا کھانا کھانے اور ایک عیسائی یا ایک یہودی عورت سے شادی کی اجازت دیتا ہے. اللہ ایک آیت میں فرماتا ہے:

"آج تمام اچھی چيزيں آپ کے لئے حلال  کی جا چکی ہیں. اور اہلِ کتاب کا کھانا بھی تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے. اسيطرح مومنوں سے پاک دامن عورتيں اور تم سے پہلے والے اہلِ کتاب کے درمیان سے پاک دامن عورتيں،  جن کوایک بار جب آپ شادی کريں توجہیز ديتے  ہيں، کسی زنا کاری یا ان سے محبت کرنے کے مطلب سے نہيں. لیکن، جيسے کؤی بھی جوایمان مسترد کرتا ہے، کے اعمال کچھ بھی نہیں رہيں گے اور آخرت میں وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائے گا "(سورت مأئدہ، 5).

108037-753922 اسکولوں کے درمیان دشمنی  اور خونریزی کمزور ایمان والے لوگوں کے نظریات ہیں

کمزور ایمان رکھنے والے لوگوں کی سب سے زیادہ علامتی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اسکولوں کے درمیان خونریزی اور جارحیت چاہتے ہیں.  شیعہ اور سنی کے درمیان دشمنی  لوگوں کے دلوں میں نفرت سے جنم پاتی  ہے. اس طرح کی نفرت اور غصے کے ساتھ وہ لوگ يہانتک بھی کہہ سکتے ہیں کہ 'الحمد للہ، میں ایک سنی ہوں، ماشاﷲ میں ایک عظیم مسلمان ہوں، اب اللہ کی رضا کے لئے، میں تمام شیعہ کو  ذبح کرنے جا رہا ہوں ااور ہر شیعہ کوقتل کرکے مجھے اجروثواب حاصل ہوگا '، جو مکمل طور پر قرآن کے خلاف ہے.  کچھہ شیعہ  بھی ايسے ہيں جنکا دماغ اسی ٹیڑھی حالت کی غمازی کرتا ہے. تاہم، يہ لوگ  اصل ميں ملحد ہيں، جونفرت سے بھرپور ہيں جو اپنے غیظ و غضب کی ضروریات کو پورا کرنے کے راستے ڈھونڈھتے ہيں اور وہ عذر کے طور پر اسلام کا استعمال کرتے ہیں، کیونکہ ایک مسلمان جان بوجھ کر کبھی بھی کسی بھی زندہ چیز کو تکلیف نہیں ديگا۔. اچھے، نیک، مذہبی سنی اور شیعہ اس طرح کے خیالات کبھی نہیں رکھيں گے، اور وہ بالکل اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ مسلمانوں کا ایک دوسرے سے لڑنا غیر قانونی ہے اور اگر وہ ایسا کچھ کرتے ہیں،تو ایک گناہ کے مرتکب ھونگے.

سنی اور شیعہ  کو اسلامی یونین قائم ہونے تک اپنی دانشورانہ مہم جاری رکھنی چاہئے. بيشک مختلف ِفکری اسکول اور خیالات ہوتے ہیں،  تاھم اہم بات ہے اللہ کی محبت کے ساتھ رہنا اور ايسی مضبوط  دانشورانہ مہم میں شامل ہوکر اللہ کی رضا کے لئے اپنی دولت اور زندگی کی قربانی دینے کے لئے تیار رہنا۔ ایک آیت میں اللہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی اہمیت اور بدلے میں اجروثواب دينے پر اِسطرح توجہ دلاتا ہے :

"سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام ليں، اور الگ الگ نہ ہوں. یاد رکھیں تم پراللہ کی برکت ہویٔ جب تم دشمن تھے اورپھر اس نے تمہارے دلوں کو ایک دوسرے کے ساتھ اسطرح جوڑا کہ تم ُاس کی برکت سے بھائی بھائی بن گئے. تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے اور اس نے تمہيں اس سے بچایا. اس طرح اللہ تعالی اپنی نشانیوں کو تم پرصاف صاف عياں کرتا ہے، تاکہ تمہاری پُر امید  طريقے سے رہنمائی ہو جاۓ۔’’ (سورہ ال 'عمران، 103).

عدنان آکتر: مثال کے طور پر، بہت سے لوگ شیعہ یا سنی کے خلاف ایک گہری نفرت کو ٹھکانا بنا ليتے ہيں،  سنی شیعہ سے نفرت کرتے ہیں، جبکہ شیعہ سنی سے نفرت کرتے ہيں. بہت سے لوگوں کو يہ مسئلہ ہے. یقینا لاکھوں ايسےبھی ہیں، جو اسطرح نہيں ہيں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بہت سے  ايسے ہیں جو ان خطوط میں سوچتے ہیں. اصل میں کچھ کالم نگار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑی فرقہ وارانہ جنگ ہو جائے گی، اور اگر ان لوگوں کے دماغ کی ايسی ہی حالت رہی تو يہ منظر نامہ بہت دور کی کوڑی نہیں ہے. لیکن مہدی نظام اِسکی روک تھام کر رہا ہے اور یہ ایسی چیز کو روکنا جاری رکھيگا.کوئی بھی اس حقیقت سے لاپرواہی نہيں برت سکتا. کچھ لوگوں کا يہ غلط کہنا ہے کہ ہم اُنہيں  اسلامی مشاہدات کی مشق کيسے کرنی ہے،  سکھاينگے اور پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ٹھيک ہے، اِسکی کوشس کريں ، پرائمری و سیکنڈری سکولوں میں  ابتدایٔ مذہبی نصاب مرتب کيے جاتے رہے ہيں. دہشت گرد، تخريب کار سبھوں نے مزہب کی تعليم حاصل کی ہؤی ہے۔  بہت سے پی کے کےدہشت گردوں کے والدین دراصل مذہبی لوگ ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ اسلامی طرز عمل کيا ہے، وہ جانتے ہیں کہ نماز کسطرح ادا کرنی ہے. وہ نماز کی نقل اُتارتے ہيں،پھر اس کا مذاق بنانے کی کوشش کرتے ہیں. ایسا اس لئے ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ کس طرح کرنا ہے، اگر وہ اس کے بارے میں کچھ بھی نہ جانتے ہوں تو کيا وہ اس کے ساتھ مذاق کرنے اور اس کی حرکت نقل کرنے میں کامیاب ہو نگے؟،. وہ نمازکے بارے ميں چھوٹی سے چھوٹی بھی تفصیلات جانتے ہيں ۔ وہ روزہ، صدقہ، يہ سب جانتے ہيں. تو يہ اسلام کو کسطرح عمل ميں لانا ہے ،کے بارے میں جاننا نہیں ہے. وہ ڈارونست اور مادیت پرست لوگ ہيں. آپ چاہتے ہیں ڈارونست اور مادیت پرستوں کو قرآن پڑھايا جأے جو بھی آپ چاہيں ، ان کو حفظ کروائں، اسلام کے احکام سکھائں، لیکن اس کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن یہ سب بہت آسان ہو جاتا ہے، جب کوئی شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے. دین میں کوئی پیچیدہ اُلجھے طریقے نہيں ہیں.  آخر ميں وہاں کچھ بھی ايسا نہیں ہے کہ انسان کو مہينوں تربیت کی ضرورت پڑے . قوانین، اسلام کے طریقوں کو صرف ایک دن میں سیکھا جا سکتا ہے. ایک عام شخص يہ سب صرف ایک دن میں سیکھ سکتا ہے، اور وہ اس کے بعد اسلام پر بہت آسانی سے عمل پيرا ہو سکتا ہے. صحابہ کرام کے اوقات ميں محمد رسول اللہؐ کفار کو مليں گے اور کفار اُن پر يقين کرتے تھے۔ وہ  اُن کے درس میں شرکت کرتے تھے. ان سے صرف ایک ہی گھنٹہ، آدھہ گھنٹہ بات کرنے کے بعد، وہ میدان جنگ میں اسلام کے لئے کام کرنے کے لئے رخصت ہو جا تے. وہ محمد رسول اللہؐ کے انتقال کے بعد بھی سپین اور بہت سے مختلف مقامات پر گۓ۔

 وہ وہاں اُن لوگوں کے ساتھ گۓ جو اسلام سےنۓ  نۓمتعارف ہوۓ تھے. حقیقت میں تو اُن نئے  لوگوں کومسلمان ہوۓ صرف ایک یا دو گھنٹے  ہوسکے جب انہوں نے  وہ بڑے بڑے کام کیے.اسلام کے بارے میں کوئی بات پیچیدہ نہیں ہے. یہی وجہ ہے کہ حکومت کو نوجوانوں کو قدامت پسند بنانے کی کوشش روک دينی چاہیے۔ اس کے بجائے، انہيں ڈارونست۔ مادیت پرستی کی تعلیم کو ختم کرنا چاہئے اور ایمان کی معروف علامات کو پھیلانے اور لوگوں کے ایمان کو تقویت پہنچانے کا کام کرنا چاہئے. ان کے عقیدے کو تقویت ملنے کے بعد ايک ايسی نسل پيدا ہو جائگی جو اللہ سے محبت کريگی اور اللہ سے  خوف رکھيگی. آپ قدامت پرستی کی طرف سے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے. سلطنت عثمانیہ قدامت پسند تھی اور وہ تنزل پزير ہویٔ.  قدامت پرستی آپ کی مدد نہیں کريگی. آپ کيا تحفظ کرنے جا رہے ہو؟ کون سا ایمان؟ ظاہر ہے، وزیر اعظم ايسا نہيں کہہ سکتا ہے اور یہ اس کے لئے بہت عام بات ہے. وہ ایک سیکولر نظام میں یہ نہیں کہہ سکتا. لیکن، میں ایک فرد کے طور پر یہ کہہ سکتا ہوں. ایک قدامت پسند بننے کی کویٔ ضرورت نہیں ہے، ہاں ایک اچھا مسلمان ہونے کی ضرورت ہے. یہ ایک اچھا مسلمان ہونے کے بارے میں ہے. 68 جنریشن '. وہ اصلی کٹر ہیں، وہ حقیقی قدامت پسند ہیں. وہ تحفظ، کيساتھ سب کچھ محفوظ کر ليتے ہيں، ذرا ذرا سی تفصیلات بھی. وہ اُسی موسیقی ، اُنہی دنوں کے گانے سنتے ہيں، کچھ بھی تبديل نہيں ہوتا، سب کچھ ایک جيسا ہی رہتا ہے، جس طرح سے وہ چلتے، بات کرتے، کپڑے پہنتے، کھانا کھاتے ہيں. کچھ عبدالحميت اور کچھ عبدالمسيت کے قديم دنوں  سے چمٹے ہوۓ ہيں. وہ يقيناً بہت غلط ہے. اُنہيں يہ کرنا چاہیے کہ، اُنہيں اسلام کا بتا يا ہوا  مسلمان بن جانا چاہئے. اس کے بارے میں کچھ بھی  پیچیدگی نہیں ہے۔ (4 فروری، 2012 ٹی وی اے۹).

حضرت مہدیؑ اسلام کے احکام پر توجہ مرکوز کرنے سے پہلے ایمان کی معروف علامات پر توجہ کرينگے، اور اللہ کے حکم سے، ڈارونست۔ مادیت پرست ذہنی حالت اور ایمان کی کمزوری کو تباہ کرديں گےا:

ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ حضرت مہدیؑ قرآن، سائنس، حکمت اور عقل کی بنیاد پر ایک دانشورانہ مہم کے ذریعے  ماديت ، ڈارونسم ، اور الحاد کی تباھی پر کام کریں گے.

ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرميا کہ حضرت مہدیؑ سائنس اور دانشوری کے ذرائع سے ایمان کی کمزوری اور ایمان کے فقدان کو ذہنی طور پر تباہ کر دیں گے:

امام  مسلم ميں ابو حريرہؒ  نے ايک حدیث بيان کی ، ايک دن نبی  کريم محمدؐ نے اپنےساتھیوں سے کہا کہ:

"... يہ سپاہی، جب ایک شہر جاتے ہیں، تو وہ ہتھیاروں کے ساتھ لڑائی نہیں لڑتے، نہ ہی  تیر کا استعمال کرتے ہیں. وہ صرف ﻻالہٰ الا اللہ، اللہ اکبر کہہ کر اللہ کی حمد کرتے ہيں. اس بیان کے بعد شہر کے دو اطراف قلعوں کی دیواروں میں سے ایک گرجائے گی. اس کے بعد وہ دوسری بار کہيں گے.  جس پردوسری ديوار  نیچے آجائگی. تیسری بار دیواريں اسلام کی افواج کے لئے نیچے گر جائننگی اور وہ ان دیواروں کو پار کرکے اندر داخل ہوجائنگے اور شہر کو فتح کر ليں گے " (امام  شارانی، موت ۔قیامت کا دن۔ اوقات کے اختتام  اور  اُسکی بد شگونياں ، صفحہ 445-446.)

بديع الزمان نے یہ بھی کہا کہ حضرت مہدیؑ  کے تین عظیم فرائض میں سے ایک مادیت اور ملحد فلسفے کومکمل طور پر خاموش کراکے لوگوں کے عقیدے کو دوبارہ مضبوط  کرنے کيلٔے اُنکی مدد کرنا ہوگا:

ایک: سائنس اور فلسفہ کے اثر و رسوخ ، اور انسانیت میں مادیت اور فطرت پسندی کی وبا پھيلنےکے پيشِ نظر، [حضرت مہدیؑ کا] پہلا فرض ایمان کو بچانے کے لئے سب سے پہلے فلسفہ اور مادی سوچ کو مکمل طور پرخاموش کروانا ہے۔ کيونکہ  مومنوں کو بد چلنی سے بچانا ہے [مومنوں کو صحیح راہ سے گمراہ ہونے سے بچانا) ... (امر داگ ضميمہ، صفحہ 259)

جیسا کہ نبی کريم محمدؐ کی احاديث اوربديع الزمان کے بیانات سے سمجھا جا سکتا ہے کہ، حضرت مہدیؑ ، اللہ کے حکم سے اس بات کو یقینی بنائنگے کہ ہر کوئ اللہ تعالی کے وجود اور اس کے ناموں کو بہتر سمجھتا ہو. وہ لوگوں کو مادہ پرستی سے پیدا ہو نيوالےدھوکوں سے بھی بچائںگے۔ آخری اوقات میں ٹیکنالوجی بہتر ہونے کيساتھ، سائنس بہت آگے بڑھے گی، جو اللہ کے وجود کو ثابت کریگی. حضرت مہدیؑ زیادہ مؤثر طریقہ سے لوگوں کو یہ سچ بتائنگے اور دنیا بھر میں مثبت نتائج حاصل کریں گے۔

.قرآن پاک میں ہمارے رب تعالٰی ایک آیت میں، غلط خیالات  کی ذہنی طور پر تباہی کيطرف توجہ دلاتے ہيں:

"بلکہ ہم نے باطل کے خلاف سچ تيزی سے استوار کيا ہے اور یہ اسے بيچوں بيچ کاٹتا ہے اور صفایٔ سے اسےغائب کرديتا ہے ...!" (سورت الانبيا ، 18)

جب تک کویٔ مضبوط یقین  رکھتا ہے، مذہب پر عمل کرنا اُس شخص کے لئے بہت آسان ہے. دین میں کوئی پیچیدہ یا مشکل طریقے نہيں ہیں. اسلام بہت آسان مذہب ہے جو کسی کو بھی سمجھ آ سکتا ہے. ادائگی نماز سيکھنے کيلۓ   کسی کو بھی ایک طویل عرصہ درکارنہیں ہوتا. اسلامی طرزِ عمل ایک عام شخص صرف ایک دن میں سیکھ سکتا ہے، اور وہ اس کے بعد اسلام پر بہت آسانی سے عمل پيرا ہو سکتا ہے. اصحابہ اکرام کے وقت، محمد رسول اللہؐ  بت پرستوں سے ملتے اور ان سے بات کرتےاور وہ ان پر یقین کرتے. وہ اُنکے درس میں شريک ہوتے. صرف ایک گھنٹہ، آدھہ گھنٹہ محمد رسول اللہؐ سے بات کرنے کے بعد، وہ اسلام کی راہ ميں کام آنے کے لئے، میدان جنگ میں چلے جاتے. اسلام کے بارے میں  کویٔ پیچیدگی نہیں ہے. اسی لئے حکومت کو نوجوانوں کو قدامت پسند، بنانے کی کوشش کی بجائے  ڈارونست ۔ مادیت کی تعلیم کو ختم کرنا چاہئے  اور ایمان کی نشانیوں کو بتانے کيطرف بڑھنا چاھئے۔  کمیونٹی کا ايمان بڑھانے کے بعد، ايک ايسی نسل جو اللہ سے محبت کرتی ہے اور اللہ سے ڈرتی ہے، اُٹھ کھڑی ہوگی اور اللہ کے حکم سے اسلامی دنیا کی آزمائش ختم ہوجائگی.

حضرت مہدیؑ، جسطرح سے بديع الزمان نے بیان کیا، 'کتابوں و دستاویزات کے ساتھ ایمان کی علامات پھیلائں گےاور اللہ پہ مخلص یقین حاصل کرنےاور قرآن کی اخلاقی اقدار پر عمل پيرا ہونے میں لوگوں کی مدد کريں گے۔

آخر اوقات میں ڈارونسم اور مادہ پرستی افراد کے ايمان کو روکنے ميں سب سے اہم عوامل ثابت ہونگے. لہذا سائنسی طریقوں کے ذریعے، اللہ کے حکم سے، ڈارونسٹ اورمادیت پرست نظریات کا باطل پن، اور ایمان کی نشانیوں کا افشا ہونا ، اللہ پر ایمان حاصل کرنے ميں لوگوں کی مدد کريگا.

beyazkirmizigul  ایمان کی معروف نشانیاں لوگوں کے ایمان کے حصول ميں مددگار ہوتی ہيں

ایمان کی معروف نشانیوں کی مدد، لوگوں کے ایمان حاصل کرنے ميں سب سے زیادہ اہم وجوہات میں سے ایک ہیں. ایمان کے بغیر ایک شخص گہرے اندھيرے پن میں ہے، اور وہ اپنے ارد گرد تخلیق کے شواہد نہیں دیکھ سکتا. کمیونٹی کی ساخت کی وجہ سے جسميں وہ رہتا ہے، جو مذہب سے دور ہے، اس کا ذہن روز مرہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی  باتوں ميں دھنسا ہوا ہے اور اس کا شعور اِس حد تک کمزور ہو گيا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد تخليق کردہ اَن ِگنت معجزات نہیں دیکھ پا رہا. اس طرح کا شخص اگرمخلص ہے اور اپنے دل کی بات مانتا ہے، تو وہ يقيناً ﷲ کا وجود اور اللہ کی وحدانیت اور اس کے لامحدود علم اور طاقت اور یہ کہ اللہ نے سب کچھ زندہ یا غیر زندہ پیدا کيا، دیکھ سکتا ہے۔  اسلئے ایمان کی معروف نشانیاں باضمیر لوگوں کی مدد کرنے میں بہت اہم ہیں، کيونکہ ايسے لوگ ملحدانہ تجاویز کی وجہ سے سچایٔ سے دور رکھے گۓ.

ايسے اندھے لوگوں کی توجہ ایمان کی معروف علامات کيطرف مبزول کرنے سے ان کی مدد بہت سی ايسی چیزیں ديکھنے ميں ہوگی جن کے بارے ميں وہ پہلے سے آگاہ نہیں تھے، اور انہیں اس اندھا پن جسميں وہ  پہلے سے دوچار رہے تھے،  سےچھٹکارا حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی.  لوگوں کی آنکھيں تخلیق کے معجزات ديکھنے کيلۓ کھولنا، جو ان کے لئے ایک معمولی نظارا ہو سکتا ہے، اُنکو گہری تفہیم حاصل کرنے ، ان کے ضمیر جگانے اور ذہنی طور پرنظامِ کُفر کی ملحدانہ تجاویز کو تباہ کرنے میں اُنکی مدد کريگا.

پہلی بات جوايک باضمیر شخص سوچے گا کہ جب وہ واضح طور پرایمان سے معروف علامات دیکھتا ہے يہ ہوگی کہ 'یہ اتفاقات کی مصنوعات نہیں ہو سکتی ہيں، يہ اتفاقات کے نتيجے ميں نہيں ہو سکتيں'. وہ اُسوقت  قادرِ مطلق  اللہ کے وجود کوکہ جس نے يہ سب کچھ پيدا کيا، سمجھنے  لگيں گے اور اُس پر يقين لائں گے. ایک آیت مندرجہ ذیل ذکر کرتی ہے:

"وہ لوگ جو اللہ کی یاد، کھڑے، بیٹھے اور اطراف ميں پڑے کرتے ہيں، اور آسمان اور زمین کی تخلیق کی عکاسی کرتے ہيں: ٰاے ہمارے رب، آپ نے کچھ بھی بے عبس پیدا نہیں کيا ہے. آپ کی عظمت ہو!  ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائے "(سورہ ال عمران، 191).

عدنان آکٹر: حضرت مہدیؑ اس سے پہلے کہ اسلام کے احکام کيطرف بڑھيں،  ایمان سے معروف علامات پر توجہ مرکوز کرينگے

عدنان آکٹر: جب حضرت مہدیؑ آيںٔں گے تو وہ اسلام کے احکام پر توجہ مرکوز نہیں کرينگے. دوسرے الفاظ میں، وہ لوگوں کو وضو کرنے، یا نماز یا روزہ رکھنے کے قواعد و ضوابط کی تعلیم نہیں دیں گے. بديع الزمان  کہتے ہيں حضرت مہدیؑ ایمان کی نشانیوں، اللہ کے وجود اور وحدانیت میں توجہ مرکوز رکھيں گے. 'سب سے اہم پہلو یقین ہے. وہ کہتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سب سے اہم بات آج شریعت اور زندگی ہے. تو بہت سے لوگ وسوسوں ميں پڑ جاتے ہيں اور لوگوں کو پرکھنے لگ جاتے ہيں اور ان پر تنقید کرتے ہوۓ کہتے ہيں کہ تم اپنی داڑھی  کيوں منڈھواتےہو؟ آپ کی مونچھیں اس شکل  کی ہونی 'چاہیے تھيںٰ. یا وہ اِس سے بھی آگےجا کرکہتے ہیں کہ تمہيں نماز ادا کرنی چاہئے، اور تمہيں بالکل اس طرح نماز ادا کرنی چاہئے. وہ اللہ میں یقین نہیں رکھتا ہے اور آپ اُس کو نماز کی درست ادائگی کے بارے میں بات کر رہے ہیں. یا روزے کے بارے میں بات کررہے ہيں. یا کویٔ اور بنیاد پرست ایک آدمی کے پاس جاتا ہے، اور اس سے کہتا ہے کہ 'آپ مسجد میں کیا کر رہے ہیں، آپ نے رمضان المبارک کے دوران کبھی روزہ نہیں رکھا'. بس پہلے  اُس سے پوچھو، کيا وہ ايمان رکھتا ہے. کیا آپ نے پوچھا ہے؟ نہيں۔ بديع الزمان کا کہنا ہےٖکہ بہت سے لوگ غلط سوچتے ہيں کہ سب سے زیادہ اہم چیزیں زندگی اور شریعت ہیں اور اس وجہ سے اگر حضرت مہدیؑ  اب زندہ ہوتے (اگر وہ بديع الزمان  کے ہمعصر تھے)، تو وہ تین فرائض انجام دینے کے قابل نہیں ہوپاتے کیونکہ یہ اديت ﷲ سے مطابقت نہیں رکھتا ہے. تو شاید وہ سب سے زیادہ اہم بات پر سب سے پہلے توجہ مرکوز کرتے اور باقی چھوڑ ديتے. ' تو وہ کیا کرنے جا رہے ہیں؟ وہ ایمان کی علامات کے بارے میں 24/7 بات کریں گے. لوگ حضرت مہدیؑ سے پوچھیں گے کہ نماز کس طرح  ادا کرنی ہے، اور وہ کہیں گے، 'مجھے اس کا کوئی علم نہیں ہے.' وہ کیا کہنے جا رہے ہيں؟ وہ اپنی توجہ ایمان سے معروف علامات ، اللہ کے وجود اور وحدانیت، اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں، آخرت، جنت، اور جہنم پر مرکوز کریں گے. درحقيقت وہ ايسی چيزوں پر جو کہ ایمان کی بنیاد ہيں، توجہ دیں گے۔

(A9, on January 1, 2012)

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/154432/اختتامِ-اوقات-میں-سب-سےhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/154432/اختتامِ-اوقات-میں-سب-سےhttp://imgaws1.fmanager.net/Image/objects/6-makaleler/107968_iman_zafiyeti.jpgTue, 04 Dec 2012 11:11:08 +0200
بيمارياں ہمارے امتحان کا حصہ ہوتی ہيں  

 

·            بيماريوں کے پيچھے کيا وجہ ہوتی ہے؟

hasta cocuk 300x224 امراض ہماری زندگی میں ان چیزوں میں سے ایک ہیں  جوہمیں یاد کراتے ہيں کہ ہم واقعی کسقدر کمزور ہیں۔ ہمارے بالکل محفوظ لگنے والے جسم  ایک چھوٹے بیکٹیریا یا وائرس جو ننگی آنکھ سے پوشیدہ ہےکا بری طرح  شکار ہو سکتے ہیں. ایک چھوٹی سی سوچ اصل میں ہمیں یہ سمجھنے میں مجبورکر ديگی کہ ہمارے جسم  کے لئے تعجب کی بات ہے کہ فقط ایک بیکٹیریا اُن کواسقدر متاثر کرديتا ہے۔ یہ ايسا  ہے، کیونکہ اللہ  نے ہمارے جسم کو بے عیب تحفظاتی نظام کے ساتھ پیدا کیا ، خاص طور پر ہمارے مدافعتی نظام کو۔اس کو بآسانی ہمارے جسم کے دشمنوں کے خلاف لڑایٔ کرنے والی ایک مضبوط فوج  کہا جا سکتا ہے۔ تاہم، انسان ان تمام حفاظتی نظام کے باوجود بے بس ہی نہیں بلکہ بہت کثرت سے بیمار بھی ہوتا رہتا ہے۔ اس سے ہمیں اس بات کو سمجھ جانا چاہئے کہ اللہ ہمیں اس طرح بھی  پيدا کر سکتا تھا کہ ہم کبھی بیمار نہیں پڑتے۔ وائرس، بیکٹیریا ہم پر کوئی اثر نہیں کر پاتے، یا يہ چھوٹے 'دشمن'  جو خاص طور پر تیار کيۓ گۓ ہرگز موجود ہی نہ ہوتے۔ تاہم، کسی بھی وقت کسی بھی شخص کو بغیر کسی ظاہری وجہ سے صحت سے جدوجہد کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، جلد پر ایک چھوٹے سے کٹ کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والا وائرس  قليل وقت میں پورے جسم میں پھیل سکتا ہے.   ٹیکنالوجی خواہ کتنی ہی جديد  کيوں نہ ہو جاۓ، عام سا وائرس بھی بہت آسانی سے ہميں زير کر سکتا ہے۔

يہ کویٔ دور دراز کے منظرنامے نہيں ہيں، وہ کسی کو بھی کسی بھی وقت ہو سکتی ہيں ، اس سے ہر کسی کو ان حقائق پر اچھی طرح غور کرنا چاہئے. دیگر تمام کمزوریوں کی طرح، امراض بھی خاص طور پر ہمارے لئے اللہ کی طرف سے پیدا کیے گۓ ہيں . انسان کا رحجان تکبر اور غرور کی طرف ہوتا ہے اور وہ اپنی کمزوريوں کو بھول جانے کی عادت رکھتاہے۔. یہ بیماریاں  آدمی کو اُسکی کمزوریوں کو دیکھنے اور اُن کو سمجھنے ميں اس کی  مدد کرتی ہيں اور اس زندگی کی سچایٔ و ناپسندیدہ نوعیت کو بھی۔.

بیماریاں مسلمانوں کے لئے  ﷲ نےآزمأشوں کے طور پر پيدا کی ہيں تاکہ وہ جنّت کی خواہش رکھيں، اسکے ساتھ ﷲ نے جو صحت کا تحفہ عطا کيا ہے، اس جيسی نعمتوں پر غور کريں اور ﷲ کا شکر ادا کرتے رہيں اور    جان ليں کہ وہ اتنے کمزورہيں، کہ اُنہيں صدقِ دل سےاللہ کے آگے ہتھیار ڈال دينے چاہئں۔.

انسان زندگی میں حاصل کی جا چکی بہت سی  چیزیں  معمولی سمجھ بيٹھتا ہے. تاہم، وہ تمام چیزيں جن کو ہم اتنا پیار کرتے ہيں صرف اللہ تعالی کی طرف سے پیداکردہ نعمتيں ہيں.

مثال کے طور پر، بہت سے لوگ یہ بھول جا تے ہیں کہ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ ہم ہر صبح  اُٹھتے ہيں اور کھڑے ہوکر اپنے پیروں پر آسانی سے چل سکتے ہیں. تاہم، اگر ایک پیر میں  بھی کؤی چھوٹا سا مسئلہ ہو جأے توایک بڑا مسئلہ  پيدا ہو جاتا ہے جسکی وجہ سے روزانہ کی سرگرمیوں میں رکاوٹ ہو جاتی ہے.  چنانچہ ایک شخص جس کے پاؤں ميں درد ہے بہتر طریقے سےاُن ہزار قدموں کی تعریف کرنے کے قابل ہو جا ئگا جو وہ دن کے دوران  بغير کسی تکليف کے اُٹھاتا ہے۔.

ایک متقی مسلمان اس پر اور اسطرح کی بہت سی بظاہر غیر اہم چیزوں کو اللہ کا شکرادا کرنے اور اس کا قرب حاصل کرنے کے مواقع کے طور پر ليتا ہے. وہ یاد رکھتا ہے کہ اللہ تعالی نے اسے ایک صحت مند شخص  بناکےا سے ایک بہت ہی عظیم نعمت سے نوازا ہے. وہ ایکبار اور بھی ديکھتا  ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو بیماری دیتا ہے اور صرف اللہ تعالی ہی  شفا دے سکتا  ہے اور لہذاوہ  اللہ کے حضور ہی صحت پانے کيلٔے رجوع کرتا ہے. ہر لمحے جب درد کا احساس ہوتا ہے، وہ اللہ  ہی کو یاد کرتا ہے اوراپنے دل کو ہر وقت اللہ ہی پر مرکوز رکھتا ہے۔.

وہ جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھے ہدایت دیتا ہے؛.

جس نے مجھے کھاناديا ہے اور پينا ديا ہے؛

اور جب میں بیمارہوتا ہوں، وہ مجھے شفا ديتاہے؛.

وہ جو میری موت کا سبب بنائے گا، پھر مجھے زندگی عطا کريگا؛

مجھے پوری امید ہے کہ حساب کے دن میری غلطیوں کو معاف کر دے گا؛

مجھے صحيح انصاف سے نوازے گا اور مجھے صالحين کيساتھ شامل کريگا؛

اورمجھے اعلٰی لوگوں کے درميان اونچی عظمت عطا کريگا؛

اور مجھے نعمتوں کے باغ کا وارث بنأے گا

الشعرا)78-85)

امراض ہمیں یہ سمجھانے ہيں کہ اس دنیا سے منسلک ہونا انتہأی بیکار ہے. وہ ہمیں یہ بھی ظاہر کرتے ہيں کہ سب کچھ جو ہمارے پاس ہے ہمارے امتحان کا ہی ایک حصہ ہے. ہم اس طرح سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہيں کہ ہم صرف اللہ کے غریب غلام ہیں اور ہميں آسانی سے شکست دی جا سکتی ہے اورحتٰی کہ جراثیم بھی ہميں ہلاک کر سکتے ہیں. اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے اور وہی ہمیں ارد گرد کے تمام اقسام کے خطرات سے بچاتا ہے. کوئی چاہے کتنا کيوں نہ کوشش کر کے سوچ لے اور اپنے آپ کو قائل کر لے کہ  وہ طاقتور ہے ، وہ کبھی بھی اپنی مدد يا حفاظت خود نہيں کر سکتا اگر اللہ ايسا نہ کرنا چاہے۔ اگر اللہ چاہے وہ کسی کو بیماریوں ميں جکڑ لے گا اور اس کے جسم میں دیگر کمزوریاں اسطرح سے پيدا فرما ديگاکہ وہ اپنی بے بسی کو مکمل طور پر سمجھ جائگا۔

يہ زندگی اللہ کی طرف سے پیدا کی  جانيوالی جانچ کی جگہ ہے. ہر شخص اللہ کو راضی کرنے کے واسطے اپنی زندگی کو اُسی طرح گزارنے کا ذمہ دارہے اور اس مقصد کے لئے مسلسل امتحان میں سے گزرتا ہے. وہ لوگ جو اللہ کے احکامات کی پیروی کر رہے ہیں اور اچھے اخلاق کا مظاھرہ کرتے ہيں،  جنت میں ہمیشہ ہميشہ رہنے کے قابل ہونگےا. تاہم، وہ لوگ جو تکبر ميں  رہیں اور ابدیی جنت کی زندگی پر اِن چند دہائیوں کی زندگی کو ترجیح ديں ، خود  کو دونوں  جہاں يعنی يہ دنیا اور آخرت میں کمزوریوں،  مشکلات اور مسائل سے چھٹکارا لينے کے قابل نہيں ہو پائنگے۔.

عدنان oktar جناب عدنان Oktar اس زندگی کی وضاحت کرتے ہيں کہ يہ آزمأش کی ایک جگہ ہے

عدنان OKTAR: بیماریوں کا خاتمہ نہیں ہو پاۓ گا. یہ زندگی ہمارا امتحانی مرحلہ ہے. تقریباً ہر دن کوئی شخص بیمار ہو جاتا ہے. یا تقریباً ہر کوئی بیمار ہو جاتا ہے، یا ہر ہفتہ یا ہر 10 دن بعد بيمار محسوس کرتا ہے.  بہت سے مختلف امراض ہیں. اور اللہ ان کے ساتھ اپنے بندوں کا امتحان  ليتا ہے. بہت قدرتی امر ہے.تو جب اللہ بیماری پیدا کرتا ہے، تو علاج بھی پیدا کرتا ہے. بیماری بہت پیچیدہ اور تفصیلی ہوتی ہے. اللہ انفیکشن تخلیق کرتا ہے، مثال کے طور پر سینے کا انفیکشن ، جس سے کؤی کھانسی کرتا ہے اور اسے غیر آرام دہ بنا دیتا ہے. اور جب ہم بیکٹیریا پر نظرڈالتے ہيں، جو جراثیم کی وجہ سے بنتے ہيں،  توہم خوردبین کے نيچے ایک حیرت انگیز پیچیدہ دنیا دیکھتے ہیں. وہ بہت اچھی تفصیلات، نظام، بالکل مکمل تکنیک  شدہ ڈیزائن ، breathtaking طریقوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں، اور وہ تقریباً ہوش و عقل  پر مبنی  اشيأ ہیں. ان سے لڑنے کے لئے، ہم فارمیسی  علاج کے لئے جاتے ہيں جدھر اللہ نے کامل، بے عيب ادويات باکس بنایا. ہم باکس کھولتے ہیں اور اللہ نے اسکے کامل، صاف کپ کے اندر ادويات رکھ دی ہيں .

اللہ  نےکامل نصوص جس پر وضاحت سےلکھا گیا، کی حوصلہ افزائی کی. ہمیں سمجھايا کہ ہم کس طرح اس کا استعمال کر سکتے ہیں.جب ہم ادويات کی آناخت ڈھانچے پر نظرڈالتے ہيں تو ہميں  یہ بالکل صاف،  پیچیدہ، تفصیلی اورصفأی سے تيار شدہ نظر آتاہے. جب اسے کوئی کھانے یا مشروبات کے ساتھ لیتا ہےتو ادويات ميں موجود ماليکيول،  بیکٹیریا کے اندر داخل ہو جاتے ہيں. یہ بیکٹیریا کی کمزوریوں کو جانتا ہے. یہ صرف بیکٹیریا کو ختم کر دیتا ہے. اللہ نے یہ اس طرح بنایا. اللہ دونوں کو پیدا کرتا ہے. اللہ کبھی کبھی علاج تخلیق کرتا ہے، اور کبھی کبھی  نہیں کرتا. لیکن ہمارے ٹیسٹ کے ایک حصہ کے طور پر  يہ ايک بے عيب  نظام  موجود ہے. کبھی کبھی منشیات بھی بیماری سے زیادہ پیچیدہ ہوتی  ہیں. میں یہاں پر ایک فارمیسی کو دیکھ رہا تھا. اس میں بہت سی مختلف ادویات ہیں. اللہ نےان سب کو پیدا کیا، مختلف قسم کی ہزاروں ادویات اور مختلف قسم کی ہزاروں بیمارياں ۔ يہ بہت زيادہ ہيں،  یہ لامتناہی سلسلہ ہے. اور اسيطرح بہت سی مختلف ادویات. مثال کے طور پر کسی کو سر میں درد ہے، اللہ ایک خاص نظام کے ساتھ اس کے سر میں درد پیدا کرتا ہے. اس کے لئے ایک ايسی دوا ہے، جو اعصابی نظام ميں جاتی ہے، کسی نہ کسی طرح آناخت ڈھانچہ پر اثر انداز ہوتی ہے، اس کو مکمل طور پر تبدیل کرتی ہے اور سردرد سے  بچاتی ہے اور سکون دلاتی ہے.

جناب عدنان Oktar وضاحت کرتے ہيں کہ اللہ تعالی نے خاص طور پر انسان کی آزمأش کے لئے کمزوریوں کو پیدا کيا ہے اور یہ اللہ ہی ہے جس نے بیماری، ادویات، علاج، ہسپتال اوروہ سب کچھ جو علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے،  پیدا کياہے.

عدنان OKTAR: ... ہميں کمزور ہونے کی ضرورت ہے، تاکہ ہميں ٹیسٹ کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر، ہم نے سردی محسوس کرنی ہے جب  ٹھنڈ ہو جاۓ، بیمار ہو جائں، نزلہ زکام پکڑ ليں، یا کینسر، ورنہ کوئی امتحان نہ ہوتا۔ ہميں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے. جسم کے مسائل ہیں، کیونکہ کامل جسم جنت میں ہی ہو سکتا ہے. اگر جسم کامل تھاتو يہ جنت کيطرح تھی، کيا یہ ايسا نہیں لگتا؟ جِلد کو بوڑھا ہونا ہے، ہڈیاں کمزور ہو جانی چاہئيں، آنکھوں کو اپنی تیزی کھو دينی چاہئے، ایک سماعت کے آلے کی ضرورت پڑھنی  چاہئے. اللہ نے آلۂ سماعت پیدا کيا. مثال کے طور پر، اگر conjunctivitis ہے، تو اس کے لئے اينڑیيسپٹک  قطرے پیدا کئے جاتے ہیں.اللہ اينڑیيسپٹک  قطروں  کی تخلیق کرتا ہے. ان کا خیال ہے کہ اللہ قطرے پیدا نہیں کرتا ہے اور اللہ صرف آنکھ پیدا کرتا ہے. اصل میں یہ اللہ ہے کہ جو قطرے اور آنکھ کی تخلیق کرتا ہے.  مثال کے طور پراگر دماغ میں کویٔ مسئلہ ہے، تو اللہ  امیجنگ کا سامان پیدا کرتا ہے. اللہ ایکس رے کے تحت اسے  دکھا دیتا ہے اور اللہ ایک آپریشن کے ذریعے مسئلہ ٹشو کو ہٹا دیتا ہے۔ کویٔ بھی ڈاکٹر کسی آپريشن کے ساتھ دماغ سے کچھ بھی حذف  نہيں کرسکتا. اللہ ان سب کو ہٹاتا ہے.

کوئی بھی شخص  کسی دوسرے شخص کو قتل نہيں کر سکتا.  اللہ ان سب کو مار دیتا ہے، اللہ صرف انسان کو اس کا ذريعہ بناتاہے. یا اللہ امراض  کواس کا ذريعہ بنا ديتا ہے۔  وہ اس حقیقت کو ديکھ نہیں سکتے ، اور اس وجہ سے وہ غلط خیالات کا شکار ہو جاتے ہیں. اللہ نے مثال کے طور پر بہرا پن بنايا ہے، پھرآلۂ سماعت پیدا کيا ہے.  آلۂ سماعت بہت پیچیدہ ہے،  جو سینکڑوں کی تعداد ميں مختلف اجزاء سے بنا ہوا ہے. تو سب کچھ آپسميں مربوط ہے. مثال کے طور پر،اگر کسی کوزکام ہو جاائے،تو اس سے لڑنے کيلۓ فارميسی ميں مختلف ادویات تیار ملتی ہیں. سب اچھے طريقے سے  پيک ہوتی ہيں۔  اللہ نے ان پیکجوں کو پیدا کيا ہے. اور اللہ پیکیج کے اندر بوتل تخلیق کرتا ہے، اس کے اندر ان تمام ادویات کو، ایک کے بعد ایک رکھا ہوتا ہے. اور پھر اللہ تعالی ان دوائوں کو صحت بحال کرنے کا ذريعہ بناتا ہے اور ہم انہیں باہرسے نہیں دیکھ سکتے، وہ سیاہ زدہ ہیں. اللہ انہيں رنگ اور ذائقہ ديتا ہے جو یہاں ہمارے دماغ میں ہے،. اللہ جسم میں خلیات کو انکی پہچان ديتا ہے، اللہ  منشیات کو حسبِ ضرورت اثر فراہم کرتا ہے. اللہ خلیات کمزور بنا دیتا ہے، وہ اللہ کی طرف سے خاص طور پر کمزورہو جاتے ہیں. لیکن جنت میں اس طرح نہیں ہو گا.

اللہ  نےفولاد کو بہت مضبوط پیدا  ہے، لیکن انسان اتننے مضبوط  نہیں ہیں ،حتیٰ کہ cockroaches  بہت مضبوط ہیں.  اسيطرحمثال کے طور پر، بچھو بہت مضبوط ہیں، وہ بہت صحت مند ہیں، وہ بیمار نہیں ہوتے، اُن کو  کچھ  نہیں ہوتا ہے، وہ کسی بھی چیز سے متاثر نہیں ہوتے. بہت سی زندہ چیزیں اس طرح کی ہيں، جو بہت مضبوط ہیں. لیکن اللہ انسان کے بارے ميں فرماتے ہيں کہ "انسان کو کمزور پیدا کيا گيا ہے" اور وہ کمزور ہے۔اسلۓ کہ اللہ نے کمزوری پيدا کی اور ان تمام نظام کو پيدا کيا جو ہماری کمزوری پر قابو پانے ميں مدد کرتے ہيں ۔مثال کے طور پر، کچھ لوگوں کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور اللہ نے ایک آکسیجن کا سامان پیدا کیا. مثال کے طور پر، ایک آدمی کو دمہ ہے اور اس سے لڑنے کے لئےايک ا سپرے ہے. دمہ اور سپرے سب اللہ کی طرف سے بنائے گئے ہیں، دمہ اور سپرے کی ﷲ تخلیق کرتا ہے. اللہ سپرے کو دمہ سے لڑنے کی طاقت ديتا ہے۔ مثال کے طور پر، اللہ کھاںسی تخلیق کرتا ہے، اور کھاںسی کو روکنے کے لئے ادویات. اللہ  سر میں درد تخلیق کرتا ہے اور پھر اس سے لڑنے کے لئے ایک چھوٹی سی گولی. اللہ ادویات پيدا کرتا ہے، اسے استعمال کرنے کے لئے ہدایات بناتا ہے. يہ تمام چيزيں سر درد کے ساتھ مل کر بنایٔ گئں تھيں.

اگر کوئی سر درد نہ ہوتا توکوئی ٹیسٹ بھی نہ ہوتا .  اگر کوئی نزلہ زکام نہ ہوتا توکوئی ٹیسٹ نہ ہوتا.  اگر کویٔ چیلنج نہیں تو کوئی ٹیسٹ بھی نہیں ہوتا.  مثال کے طور پر،ايک آدمی کو دل کی بیماری، یا بلڈ پریشر کے مسائل ہیں، وہ بلڈ پریشر کی دوا ليتا ہے اور يہ اسے ٹھیک کرديتی ہے. عام طور پر یہ ایک معجزہ ہے کہ انسانوں میں بلڈ پریشر عام سطح پر  رہے، عام طور پراسے ہر انسان کو ماردينا چاہئے، لیکن ایسا نہیں ہوتا ہے. یہ بالکل متوازن سطح پر رہتا ہے. Diastolic، systolic، يہ سب ٹھيک ہيں. اِن کو کون متوازن رکھتا ہے؟ کون اِنکو کنٹرول میں رکھتا ہے؟ جسم میں ایک خاص طریقہ کار ہے. اگر اس طریقہ کار کا توازن تھوڑا سا بھی بگڑ جاۓ، تو بلڈ پریشر فوری طور پر ہمارے دماغ، دل،  اور ہر چيز کو پھاڑڈالے۔ اللہ نے ایک کامل نظام بنايا ہے جو ہر وقت ہر چيز کوچیک کرنے میں لگا رہتا ہے، اور دباؤ ہر وقت صحیح سطح پر برقرار رکھتا ہےنہ بہت کم، نہ بہت زيادہ. اگر یہ بہت کم ہو جاۓ، تو آدمی بے ہوشی میں چلا جاۓ، لیکن اللہ تعالی اسے بہت کم یا بہت زیادہ نہیں ہونے ديتے. لیکن جب یہ زيادہ ہو جاۓ، تو ایک چھوٹی سی گولی، اپنی زبان کے نيچے رکھ لی جاتی ہے يا ايکدوسری اور بلڈ پریشر فوری طور پر اس گولی کی پہچان کرتا ہے، ﷲ اس کا  جواز پيدا کرديتا ہے اور يہ فوری طور پرختم ہو جاتا ہے. اللہ تعالی ان دونوں کو پیدا کرتا ہے. مثال کے طور پر، لوگوں کے پاس بلڈ پریشر کی پیمائش کے آلات ہیں، جنہيں اللہ نے پیدا کيا.  بلڈ پریشرکيساتھ ہی بلڈ پریشر   ماپنے کے آلہ کو پیدا کيا گيا ہے.اسيطرح مثال کے طور پر، دانتوں کے ڈاکٹر اور دانت میں درد ایک ساتھ بنائے گئے ہیں. مثال کے طور پر، دانت میں درد کے علاج کے لئے جو سازوسامان استعمال ميں آتا ہے،  وہ عمومی شکل ميں دانت سے زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے. بيشک دانت سے متعلقہ تفصیلات اتنی پیچیدہ ہیں،جو breathtaking ہيں.

کوئی مادیت پرست اس کی وضاحت بھی کرنے کی کوشش نہيں کر سکتا. لیکن جب آپ  سامان باہر سے ديکھتے ہیں تو يہ بہت تفصیلی، پیچیدہ، اچھا لگتا ہے. جیسا کہ دانت تنزل پذیر ہونا  شروع ہوتا ہے، يہ ٹولز پیدا کرديۓ جاتے ہیں، ساتھ ہی دانتوں کے ڈاکٹر بھی. یا مثال کے طور پر، ایک ٹانگ کو کچھ ہو گیا تو، wheelchairs بنائے گئے ہیں. اللہ wheelchairs بنواتا ہے اور مسئلہ بھی. گاڑی مسئلہ کے ساتھ مل کر پیدا ہوتی ہے. تو ایک ہی وقت میں بہت سی چیزیں پیدا ہو جاتی ہیں، ہر کوئی سوچتا ہے کہ وہ آزاد ہیں. ان سب کو ایک ہی وقت ميں تخليق کيا جاتا ہے. مثال کے طور پر، عينک کو نظر کے مسئلہ کے ساتھ مل کر بنايا  گيا ہے.آپ عينک لگاتے ہيں اور مسايل ختم ہو جاتے ہيں۔  آپ کو پتہ ہے کہ اب وہ آنکھوں پر آپريشن کر رہے ہيں  اور وہ ان سے نظر درست کر ديتے ہيں.دراصل اللہ  درست کر رہا ہوتا ہے  اور علاج کر رہا ہوتا ہے. لیکن يہ  چيزيں پيدا کی جاتی ہيں تاکہ ہم ان کے بارے ميں سوچيں، ورنہ کوئی امتحان نہيں ہوسکتا. ہمارے امتحان کے لئے کوئی دوسرا نظام نہيں ہے، کوئی اور  نظام نہيں ہے، واحد يہی راستہ ہے.

بس اس کے بارے میں  سوچيں، ان کے بغیر لوگوں کو صبر، رحم، بخشش، مدد، برداشتگی يا  مشکلات میں ثابت قدمی  کے بارے میں  کچھ پتہ نہیں ہوتا . ہم بہت سادہ سی ايسی مخلوق ہوتے جو صرف کھاتی ہے. لیکن اللہ نے ان تفصیلات کے ساتھ، ہم  انسانوں کو بہت پیچیدہ، شدید اور تفصیلی بنا دیا ہے.

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/153257/بيمارياں-ہمارے-امتحان-کا-حصہhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/153257/بيمارياں-ہمارے-امتحان-کا-حصہhttp://imgaws1.fmanager.net/Image/objects/6-makaleler/hastaliklar4.jpgWed, 14 Nov 2012 13:56:25 +0200
ھمارے پيغمبر کے بارے اشتعال انگيز فلم ايمان والوں کا شيرازہ بکھيرنے کيلٔے تيار کی گی  

امریکہ میں فلمائ گئ فلم جو کہ اسلام اور ہمارےنبی کریم کے بارے شر انگیزی پر مبنی تھی (یقیناً اسلام اور ہمارےنبی کریم اس سے باہر ہیں)، فوری عالمی ایجنڈےپر غالب ہو گیٔ۔ ۔کچھ لوگ فوری طور پر اس مشتعل انگیزی کا شکار ھو گئےہیں۔ اُن لوگوں نے احتجاج کرتے ہو ئے سفارت خانوں پر حملے کیے اور یہانتک کہ لوگوں کو بھی قتل کیا۔انہوں نے حکومتوں، ریاستوں، اقوام، نسلوں اور مزاحب پہ الزام صرف ایک عام فلم کی وجہ سے لگایاجو کہ ایک عام آدمی کي غلط بیاني کي پيدا کردہ تھی۔ اخبارات نے اپنے نکتئہ نظر سے ايک ايسے جارحانہ، نفرت سے بھرے مسلمان کا نقشہ پيش کيا، جو جھنڈے جلاتا ہے اور وحشی سرگرميوں ميں ملوث ہے۔اسکيساتھ ہئ ‘خونيں اسلام’ کا ايک زبردست پراپيگنڈا شروع کرديا گيا ہے۔ مدتوں سے غير اسلامی عناصر نے ايسے پراپيگنڈاکے مواد کو جيسا چاہاتوڑموڑکرپيش کيا اور اسے اپنے مفادات کيلئےاستعمال کيا۔ 

اس اشتعال انگيزی نےتھوڑے سےعرصےميں اپنا مقصد حاصل کرليا جبکہ: نتيجتاً، ايک عام سےاسلام مخالف پروڈيوسر کی بہت ہی عاميانہ فلم، جو حقائق سےقطعی لا تعلق اور خرافات پر مبنی تھی، کوعالمگيرشہرت کا حامل بنا دياہے۔ يہ پراسرارفلم، جوايسی من گھڑت کہانيوں پرمشتمل ہے جنکوبصورتِ ديگراگر ايسے حالات درپيش نہ آتے توکویٔ ديکھنا تک پسند نہيں کرتا، بھی شہرت حاصل کر گیٔ ہے۔

ايسےلوگ جواپنےتئیں اسلام کوايک خونی اورناشأستہ مزہب کےطور پر دکھانے ميں مصروفِ عمل رھتے ھيں،اُن کے ناپاک عزائم پورے ھوگئے ھيں اور وہ جو کہتے ہيں کہ ‘‘ﷲايک ہے’’ ايک دوسرے کيخلاف کر ديے گۓ ہيں۔

حيرانگی کی بات يہ ہے کہ ايک گستاخ اسلام مخالف شخص کے کہنے پر مسلمانوں نےفی الفور يقين کر ليا کہ يہ فلم ھمارے  پيارے رسولکے بارے ميں تھی۔ يہ ايک گستاخ شخص کا ناقابلِ سمجھ بيان اسقدر سنجيدگی سے ليا گيا کہ مسلمانوں نے بغير حقيقت سمجھتے ہوۓ کہ وہ اسطرح اشتعال انگيزی کو پھيلانےکا موجب بن رہے ہيں، اس شخص کے ايسا کہنے کو اختيار کر ليا۔وہ سمجھ نہيں پاۓ کہ وہ ايک جال ميں پھنساۓ جارہےہيں۔ وہ احساس نہيں کر پاۓکہ اُس غريب، عام آدمی کا مقصد شہرت حاصل کرنا اور مزاہب کومنتشر کرنا ہے۔ تاہم حقيقت يہ ہے کہ ايمانداروں کو قرآن پاک کيمطابق سوچ کو اپنانا چاہيۓتھا اور اس بات کا احساس کرنا چاہيۓتھاکہ وہ ايک عام آدمی کے مقصد کے حصول کا باعث بن گۓ ہيں۔ اُنہيں اس بات کوسمجھ لينا چاہيۓ تھا کہ وہ ايک غير معروف آدمی کو ايک بہت اہم شخصيت بنانے کا باعث بن گۓ۔  

تذلیل اُن کی ہوتی ہے جواِسے اپنی زبان سے ادا کرتے ہيں۔ اِس فلم کے بنانے والے نے اپنا آپ اسميں بتايا اور يوں اپنی تذلیل خود انجام دی۔

ايک مشہور محاورہ ہے تذلیل اُن کی ہوتی ہے جواِسے اپنی زبان سے ادا کرتے ہيں۔ اِس فلم کے بنانے والے نےيہ فلم اپنے  اوپر بنایٔ۔ اس فلم ميں اُس نے اپنے خراب کردار کی خصوصيات کو اپنے بگڑے ہوۓ خيالات کے ذريعے بيان کيا اوراسطرح اپنی ذات  کی خود تذلیل کی۔

يہ بہت اثر انگيز بات ہے کہ مسلمانوں نے اسطرح کے بہت عام سے آدمی کو جو بزات خود اپنی تزليلانہ صورتحال کا شکارہے اتنی سنجيدگی سے ليا۔

ليکن سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ مسلمان کيوں اتنی تيزی سے مشتعل ہو گے ہيں؟ اسکی دو وجوہات ہيں۔ پہلی؛ غفلت اورلا علمی۔ دوسری؛ انتہا پسندی يعنی غير برداشتگی۔ تاہم حقيقت يہ ہے کہ لاعلمی ايک ايسا تصور ہے جسميں غير برداشتگی بھی شامل ہوتی ہے، کيونکہ ہماری روزمرہ زندگی ميں اکثر لوگ غير برداشتگی کے تجربے کو اسلامی طريقہ مفروض کر ليتے ہيں۔ وہ خيال کر ليتے ہيں کہ غصہ کرنا اور خون کھولنا ايک مسلمان ہونےکيلۓ ضروری ہے۔ اس وجہ سے،وہ گستاخی پر اُترآتے ہيں، سفارتخانوں پرحملے کرتے ہيں، لوگوں کو قتل کرتے ہيں، ممالک اور اقوام کو لعنت ملامت کرتے ہيں، جھنڈے جلاتے ہيں اور لگاتار خون و انتقام کا ذکر کرتے رہتے ہيں۔      

اِن مسلمانوں کو اس چيز کی بھی آگہی نہيں کہ درحقيقت وہ ايک گناہ کے مرتکب ہو رہے ہيں۔ ايسے لوگوں کی اکثريت تعصب کی وجہ سے قرآنی تعليمات سے دور ہوتی جارہی ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ قرآن پاک کيمطابق کسی معصوم کی جان لينا، مزاہب، اقوام اور نسلوں کو دشمن قرار دے دينا؛ انسانيت کو نفرت اور خوف کا عکس دينا غير قانونی ہے۔ اِس طريقےسے يہ لوگ خود کُشياں کرنے لگتے ہيں۔ تعصبيت کے غلط عقائد کے زيرِاثر، وہ اپنے بناۓ ہوۓ گمراہ شدہ مزہب کوہی اصل مزہب سمجھنے لگتے ہيں۔ تاہم مزہب ميں قرآن پاک کيمطابق زندگی بسر کرنے کا مطلب ہے غصے کے بيج کو نکال باہر پھينکنا اور ہر کسی کو ہر قسم کے مزہب، زبان، نسل اور قوم کيساتھ پيار سے پيش آنا۔ اسی ليۓ اِن لوگوں کوضرورت ہے کہ وہ فی الفور قرآنِ پاک کی اصل روح رواں کو سمجھنے کی کوشش کريں۔

شيطان کا مقصد ہے کہ وہ ايمان والوں کے اندر نفاق پيدا کرے؛مگر مسلمانوں کو ايسا نہيں ہونے دينا چاہيۓ۔

شيطان کی ہميشہ سے کوشش رہی ہے کہ وہ ايمان والوں کا ايمان کمزور کردے اوروہ مختلف خرابيوں کے ذرائع کواس طرح حرکت ميں لاۓ کہ اُن کے درميان عليحدگی پيدا ہو جاۓ۔ شيطان نے ہميشہ غيرايمانداروں کے اکٹھا ہونے کافائدہ اٹھايا ہے، کچھ مسلمانوں نے اہلِ کتاب (عيسایٔ اور يہودی) کيخلاف بُرے عزايمٔ رکھے، جِن ميں سے کچھ قرآنِ پاک ميں مخلص بتاۓ گۓ ہيں اور ايسی اشتعال انگيزيوں کی وجہ سے اِن تين مزاہب کے لوگوں کے درميان فاصلہ بڑھ رہا ہے۔

اِسکی وجہ يہ ہے کہ شيطان کو پتہ ہے کہ ‘‘ﷲ ايک ہے’’ کہنے والے اور پيار کے پيامبروں کا ملاپ دنيا بھر ميں ايک غير معمولی اور ناقابلِ شکست طاقت بن کر اُبھرے گا۔ اسليۓ خالص مسلمانوں کو ضرور قرآن اور ہمارے رسول کی حديث پاک  کيمطابق سوچ ڈھالنی چاہيۓ اور شيطان کے ناپاک عزأم کے بارے ميں آگاہی رکھنی چاہيے۔

ہميں بطور مسلمان اپنے مزہبِ اسلام کی اُن تمام ضروريات کو پورا کرنا چاہيۓ جو پيار، خوبصورتی، امن، مہربانی، جمہوريت اور قربانی کا درس ديتی ہيں۔

۔ ہميں مزہب اور نسل کی پرواہ کيۓ بغير مسلمانوں، عيسائوں، يہوديوں اور تمام بنی نوعِ انسان کوحقيقی محبت کيساتھ ميل جول رکھنا چاہيۓ۔

۔ ہميں اشتعال انگيزی دلانے والوں کے بگڑے ہوۓ استدلال کو نکال باہر پھينکنا ہے جسکی مد د سے وہ اسلام کيخلاف سازشيں کرنے کی کوششوں ميں لگے رہتے ہيں اورتمام مسلمانوں، عيسائوں، يہود کے درميان ملاپ کا خاتمہ کرنے ميں لگے رہتے ہيں اور اُن کو بھی جو پيار اوررفاقت سے دوری رکھتے ہيں۔

۔ ہميں يہ بات ہميشہ ذہن نشين رکھنی چاہيۓ کہ دنيا ميں تمام اختلافات ايمانداروں کے درميان نفاق ہونے کی وجہ سے پيدا ہوتے ہيں۔ يہ بات قرآنِ مجيد ميں اسطرح بيان کی گیٔ ہے: جو لوگ منکر ہيں وہ ايک دوسرےکو دوست اور محافظ بناتے ہيں۔ اسلئے اگر تم اس طريقے سے نہيں چلوگے تو زمين پرافراتفری اور بہت فساد  پھيلے گا۔ (سورۃ اﻻنفال،  ۷۳) 

کویٔ بھی آکر نہيں کہہ سکتا کہ، ‘‘ميں نے ايک اسلام مخالف فلم بنایٔ ہے’’ يا ‘‘ميں نے اسلام مخالف کارٹون بناۓ ہيں’’ جب؛

۔ ايمان والے اشتعال انگيزيوں کے سامنے اپنے اتحاد کا مظاہرہ کريں گے،

۔ اچھے لوگ پيار اور مہربانی سے ايک دوسرے کو گلے لگائنگے،

۔ جب ‘‘ايک ﷲ’’ کہنے والے لوگ متحد ہو کر ايک ہو جائنگے اور اپنے اتحاد کی طاقت کو قايمٔ کرينگے۔

پھر ايسے لوگ ايمانداروں کے طاقتور اتحاد اور پيار کے سفير ہونے کی وجہ سے ايسی شرپسند کارروایٔاں کرنے کی قوّت بڑی آسانی سے کھوبيٹھينگے۔ اُنہيں اپنے اتحاد اور طاقت کے کھونے کا خوف اپنے اُوپر قابو رکھنے کيلۓ کافی ہوگا۔

 اشتعال انگيزوں کيخلاف سب سے بڑا انتقام يہ ہوگا کہ دنيا کے تمام مزاہب کے افراد پيار اور امن کی چھتری تلے اکٹھے ہو جائں۔ اس اتحاد کو قايمٔ کرنا ھم سب مسلمانوں کا فرضِ اوّلين ہے، کيونکہ ﷲ کی قرآنِ حکيم ميں ھمارے لئے يہی ھدايت ہے۔

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/152935/ھمارے-پيغمبر-کے-بارے-اشتعالhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/152935/ھمارے-پيغمبر-کے-بارے-اشتعالhttp://imgaws1.fmanager.net/Image/objects/6-makaleler/12513_ahir_zaman_Hz_mehdi_as_nin_nami_ve_sohreti_surekli_olarak_yayilacaktir.jpgWed, 07 Nov 2012 11:10:30 +0200
قُرآنِ کَریم حضرت مہدی کے نِظام کا ہتھیار ہے اور توّھم پرستی مُنافِق کا جنابعدناناکتارکےاے- نائنٹیویپربراہراستاِنٹرویوکاایکحِصّہ

 

عدناناکتار: ایکطرفتوجیسےکبڑےمُنافِقاِسکشمکشمیںپڑےہوےہیںکہبھوکےلومڑیوںکیطرحہیراپھیریکررہےہیںاوربدحالیپھیلارہےہیں،آپاسلاماورقُرآنِپاککیخِدمتبہتثلیقےسےکررہےہیں۔

اردماردگان: اِنشاءَاللہحضرت،اللہآپکوخوشرکھے۔

عدناناکتار: دینیجماعتوںکومُنافِقوںسےہوشیاررہناچاہیےکیونکہمنافقلوگبہتخطرناکہیں۔یہ اس لیے کہ جن منافقوں نے مسجدِ ضرار کی بنیاد رکھی تھی وہ حضور صلّی اللہ علیہ و سلّم کے مقصد سے چھٹکارا حاصِل کرنا چاہتے تھے۔ وہ، اللہ معاف کرے، حضور صلّی اللہ علیہ و سلّم کی وفات کا اِنتظار کر رہے تھے اور ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے تھے۔ یہ منافق کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کچھ دینی امور میں دخل اندازی کریں یا اپنی کچھ ہدایات پیش کریں یا کوئی منصوبہ تیار کریں یا کوئی کھیل کھیلیں یا انہیں زہر دیں یا انہیں پھنسانے کی کوشش کریں یا کسی طریقے سے ان کی موت کا سوچیں، یہ لوگ بھوکے حقیر کُتّوں کی طرح انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اُن کے مقاصدسےچھٹکارا حاصل کریں۔ دینی امور کو اس بارے میں بُہت مُحتاط رہنا چاہیے۔ ایسے منافق ہمیشہ اپنے شیخوں کے لیے آفات کی توقُّع رکھتے ہیں تاکہ وہ کسی دن بےاثر ہو جائیں، کسی طریقے سے۔ اللہ ایک آیة میں فرماتا ہے"اور وہ آپ پر مُصیبت کا انتظار کرتے ہیں، اُن پر ہی بُری مُصیبت آے گی"۔ اس کا کیا مطلب بنتا ہے؟، جو منافق ہیں وہ درد میں ہی مریں گے، انشاءاللہ۔ منافق وہ مخلوق ہے جو اللہ کو سب سے ناپسند ہے، وہ بُہت حقیر مخلوق ہے۔ وہ سانپ کی طرح ہیں، انہیں پہچاننا بُہت مُشکِل ہے۔ وہ ور طرح سے چھپتے ہیں، وہ ہر طرح کی شکلوں میں ہو جاتے ہیں۔ وہ بہت چالاک ہیں، بہت مکار ہیں۔ ان کے پاس ہر جگہ، ہر طرح گھسنے کی طاقت ہے۔ ایک منافق توّھم پرستی قُرآن پاک کے خلاف استعمال کرتا ہے، توھم پرستی ان کا ہتھیار ہے۔ وہ کونسا ہتھیار ہے جو حضرت مہدی کا نِظام استعمال کرتا ہے؟، قُرآینِ کريم۔ توھم پرستی منافق کا ہتھیار ہے۔ وہ قرآن کے خلاف اپنے توھمات کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں۔ اس وجہ سے بہت خیال رکھنا چاہیے اور محتاط رہنا چاہیے۔ بدیع الزمان فرماتے ہیں کہ "وہ شیطان کی طرح ہیں کہ ان کے خیالات جو شیطانی ہیں"۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ شیطانی خیالات پر عمل کرتے ہیں ان امور پر کہ اگلےکو ڈنگ ماریں سانپ کی طرح۔ اسی لیے منافقوں کا پتہ لگانا اور انہیں بےاثر بنانا ہر ایک کا کام نہیں۔ ہمیں مُحتاط رہنا چاہیے، اِنشاءَاللہ۔

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/47213/قُرآنِ-کَریم-حضرت-مہدی-کےhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/47213/قُرآنِ-کَریم-حضرت-مہدی-کےMon, 12 Sep 2011 10:40:36 +0300
ہمدردی ایک خاص احساس ہے، اس کا ایک خاص اثر ہے روح پر  

ایک نمونھ عدنان اکتار کے براھرست انٹرویو سے، اے- نائن اور گزیانتیپ اولے ٹی وی پر بمؤرخھ ۲۱، جون، ۲۰۱۱

 

عدنان اکتار: سب سے پہلے یہ کہ مومنوں میں رحم دلی کا احساس ہوتا ہے۔ میرا مطلب وہ شخص ہے جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اس میں رحم دلی کا احساس موجود ہے۔ پہلی بات یہ کہ رحم دلی کا احساس پہیکا نہیں پڑتا، نا ہی کم ہوتا ہے۔ جب کوئی عورت بیمار ہوتی ہے، رحم دلی کا جذبھ جو کسی کو محسوس ہوا، اونچائی پر پہنچ جاتا ہے۔ اللہ اُسے اس بات سے بچائے کہ ا۰س کے لیے رحم دلی کا احساس ختم کر دیا جاۓ، جب وہ بوڑھی ہو جاے تب بھی وہ جذبھ رحم کا اونچائ چڑھ جاتا ہے، یہ معاملہ اور بھی بڑھ جاتا ہے، جب اُس کو ضرورت پیش آے، مثلاً کہ وہ کسی وجہ سے نیچے گِر جاے، اللہ اُسے بچاۓ، رحم دلی کا احساس بڑھ جاتا ہے، اگر اُسے طاقت نہ رہے کہ کسی چیز کے ساتھ نمٹ سکے، تب بھی رحم دلی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ رحم دلی ایک بہت خوشگوار احساس ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک خاص احساس ہے چاہت کی طرح، اس کا ایک بہترین اثر ہے روح پر۔ یہ کتنا خوب صورت احساس ہے۔اور ایک خوب صورت ناقابلِ اِخراج احساس رحم دلی کا، روح میں مُسلسل غالِب رہتا ہے۔

مثلاً جب اُسے کسی چیز کے بارے میں عِلم نہیں ہوتا، اگر کوئی غیر ایمانی سوچ آجاتی ہے، ایک مُمکِن ہے کہ کوئی اُس کے خِلاف ہو جائے، وہ اس پر غُصّہ برت سکتا ہے اور اس سے ناراض بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ایمان کے نظریہ سے دیکھیں تو، ضرور ایک شخص کی ہمدردی بڑھ جاۓ گی اُس کے لیے اگر وہ ناکام ہو جائے کُچھ جاننّے کو۔ وہ اور زیادہ محسوس کرے گا اس کی حفاظت اور اس کی دیکھ بال کے بارے میں۔ مثال کے طور پر اگر وہ کِسی کے ساتھ نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتی، کوئی ایک ضرور اس کے لیے اور زیادہ ہمدردی اور مُحبّت محسوس کرے گا۔ لیکِن اگر کوئی ظُلم کے نظریہ سے دیکھے تو جب وہ کسی چیز سے نمٹنے کی طاقت نہ رکھنے والی ہو، اس پر غصّہ محسوس کرے گا اور نفرت کرے گا، وہ اس سے ناراض رہے گا اور بدلہ لینے کی کوشش کرے گا۔ مثال کے طور پر اگر وہ کُچھ بھول جاتی ہے، ایک ایماندار ہمدردی محسوس کرے گا اور اس سے لُطف اندوز ہو گا، حفاظت کرنے کی جلدی، اور اس کی دیکھ بال اور مضبوط ہو جاے گی، لیکن ایک شخص، ظالمانہ نظریہ والا اس کے نسیان اور بھول کو دیکھے گا اپنے غصّہ ہونے کے لیے، اس کی طرف جلجلاہٹ محسوس کرے گا۔ یہ کتنا متعدّد ہے گنتی کے لیے۔ یہ اس لیے کہ ہمدردی ایک بڑی برکت ہے، ایک خاص طاقت ہے، ایک خاص مؤمنانہ احساس ہے اللہ کی خاطِر، یہ اندرونی طاقت ہے ایمان والوں کی۔ اللہ کو یہ عمل، یہ اجلاقی رویّہ بُہت پسند ہے۔ ہمدردی خُدا کے نام کا اظہار ہے، جو بڑا مہربان، ہمدرد اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

اور ایک ماں اپنی اولاد کے لیے ہمدردی یا رحم دلی کا اظہار کرتی ہے، اور اگر اولاد کافی عقل والی ہو، تو وہ بھی اپنی ماں کے لیے ہمدردی کا احساس کرے گا، وہ اپنی ماں کی حفاظت اور دیکھ بال کرے گا۔ مثلاً کوئی بِلّی ابنے بچّے کے ساتھ آج کسی باغ میں تھی، بچّھ تقریباً پوری بلوغت کو پُہنچ چُکا تھا۔ بچّہ تھوڑے فاصلے پر تھا، اُس کی ماں نے صرف بلّی کی سی آواز نِکالی اور وہ دوڑی دوڑی ماں کے پاس آگیا۔ فرض کیجیے اگر ہم اسے بُلاتے تو وہ ہمارے پاس نہ آتا، اور اگر اس کی ماں بُلاتی تو فوراً اس کے پاس چلا جاتا۔ اس وقت، اگلے مرحلے پر وہ واقعی اپنی ماں سے دورہوتاہے اور اس کی ماں آگے رہ جاتی ہے، ماں اسے مسلسل بلاتی ہے لیکن تب بچّہ نہیں جاتا۔ ہم کہتے "دیکھو۔ تمہاری ماں تمہارا انتظار کر رہی ہے" اور جب ہم ایک طرف ہوتے ہیں تو اس کی ماں دوڑی دوڑی بچّے کے پاس جاتی ہے۔ اس وقت جب انہوں نے ہمیں ان میں دلچسپی لیتے ہوے دیکھا تو وہ دونو قریب آگئے اور میں سمجھ گیا کہ وہ دونو بھوکے تھے، میں نے پنیر کا ٹکرا دیا، اس کی ماں کھانے لگی اور چھوٹا بچے ہوے ٹکرے کھانے کی کوشش کرنے لگا۔ فرض کیجیے انہوں نے پنیر کھا لیا، میں نے سوچا کہ پنیر نمکین تھا تو وہ پیاسے ہوں گے، میں ان کے لیے پیالہ پانی کا لے آیا اور انہیں دیا۔ وہ فوراً پانی کی طرف دیکھے اور تیزی سے پینے لگے۔ مجھے بس اتنا ہی کہنا ہے۔

مثال کے طور پر مجھے وہ بہت پسند آیا، وہ بلّی کے بچّے کی ضرورت، اس کا ماں کے ساتھ لگاو اور ماں کی نگرانی کہ اسے کچھ ہو نا جاے۔ وہ مسلسل اسکے پیچھے پیچھے آتی ہے۔ دراصل وہ پوری طرح بلوغت کو پہنچ چکا تھا مگر اس کی ماں سمجھ رہا تہی کہ وہ اس کی نگرانی کی ذمہ دار ہے۔ اور بچّہ بھی ماں کو نہیں چہوڑتا تھا۔ مثال کے طور پر، ہمدردی کے اطمینان کے اِحترام میں، یہ سب بہت خوشگوار تھا۔ میرا مطلب ان کا نظارہ کرنا بہت خوشگوار تھا۔ مثال کے طور پر جب انہوں نے پانی پیا، میں بہت خوش ہوا، مُجھے بُہت اچھا لگا۔کیونکہ یگر وہ کھا کر ہی چلے جاتے، میں فِکرمند ہو جاتا، یہ اس لیے کہ بہت ممکن تھا کہ وہ پانی نہ ڈھونڈ سکتے۔ جب وہ پانی نہ ڈھونڈتے، ان کا جگر تھک جاتا، ان کا جسم تھک جاتا اور انہیں پتہ بھی نہ چلتا کیونکہ وہ جانور ہیں، انہیں دُکھ ہوتا۔ لیکِن انہوں نے اچھی غِذا کھائی ہوئی تھی۔

مثلاً یہ ہمدردی کی ایک مِثال ہےکہ، ایک شخص درختوں کے لیے بھی رحم دلی کرے گا۔ ہو سکتا ہے کہ کسی پودے کو دھوپ پوری طرح نہ مِل رہی ہو، اس کے لیے آپ اس رکاوٹ کو دور کر دیں گے جو اس کے اور دھوپ کے درمیان ہو گی، اور یہی ہمدردی ہو گی آپ کی پودے کے لیے۔ فرض کیجیے اگر پانی مٹّی میں سوکھ جائے، آپ اس کو پانی دیں گے، اور ہمدردی اور رحم دلی ہی ہو گی۔ کیونکہ یہ ایک خوشی ہے پھولوں کا کھلنا دیکھنے کی۔ بالکُل اسی طرح، ہمدردی ہر جگہ اپنا اظہار کرتی ہے۔

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/47212/ہمدردی-ایک-خاص-احساس-ہے،http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/47212/ہمدردی-ایک-خاص-احساس-ہے،Mon, 12 Sep 2011 10:38:26 +0300
Sin and Repentance - Urdu Language

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/40678/sin-and-repentance--http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/40678/sin-and-repentance--Fri, 08 Apr 2011 12:36:29 +0300
Allah is near to men - Urdu Language

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/39871/allah-is-near-to-menhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/39871/allah-is-near-to-menThu, 17 Mar 2011 18:46:41 +0200
Your secret identity: sincerity - Urdu Language

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/39641/your-secret-identity-sincerity-http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/39641/your-secret-identity-sincerity-Fri, 11 Mar 2011 08:39:00 +0200
Fear of Allah and Hell is an important sign of a believer -Urdu language

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/39618/fear-of-allah-and-hellhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/39618/fear-of-allah-and-hellThu, 10 Mar 2011 21:55:12 +0200
Do you notice the unanticipated beauties Allah creates for you? - Urdu Language

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/39421/do-you-notice-the-unanticipatedhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/39421/do-you-notice-the-unanticipatedFri, 04 Mar 2011 22:25:58 +0200
Death is not the end

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/39345/death-is-not-the-endhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/39345/death-is-not-the-endWed, 02 Mar 2011 21:40:15 +0200
The Deen with Allah Is Islam

 

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/39057/the-deen-with-allah-ishttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/39057/the-deen-with-allah-ishttp://imgaws1.fmanager.net/Image/objects/6-makaleler/37428_Allah_katinda_din_islam_dir.jpgWed, 23 Feb 2011 21:08:07 +0200
Every moment we live is a great blessing from Allah

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/38096/every-moment-we-live-ishttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/38096/every-moment-we-live-isSat, 05 Feb 2011 10:50:02 +0200
Speaking through trust in Allah

]]>
http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/37753/speaking-through-trust-in-allahhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/37753/speaking-through-trust-in-allahSat, 29 Jan 2011 01:24:25 +0200