UR.HARUNYAHYA.COMhttp://ur.harunyahya.comur.harunyahya.com - نظریہ ارتقاء کی تباہی - حالیہ اضافہurCopyright (C) 1994 ur.harunyahya.com 1UR.HARUNYAHYA.COMhttp://ur.harunyahya.comhttp://harunyahya.com/assets/images/hy_muhur.png11666The Miracle Of The Immune System - URDU LANGUAGEhttp://ur.harunyahya.com/ur/کتابیں/187214/the-miracle-of-the-immunehttp://ur.harunyahya.com/ur/کتابیں/187214/the-miracle-of-the-immunehttp://imgaws1.fmanager.net/Image/objects/1-kitaplar/immune_system_urdu.jpgFri, 13 Jun 2014 17:30:35 +0300The Miracle Of Electricity In The Body - URDU LANGUAGEhttp://ur.harunyahya.com/ur/کتابیں/187213/the-miracle-of-electricity-inhttp://ur.harunyahya.com/ur/کتابیں/187213/the-miracle-of-electricity-inhttp://imgaws1.fmanager.net/Image/objects/1-kitaplar/electricity_human_body_urdu.jpgFri, 13 Jun 2014 17:26:28 +0300Darwin’s Dilemma: The Soul - Urdu languagehttp://ur.harunyahya.com/ur/کتابیں/164590/darwins-dilemma-the-soul-http://ur.harunyahya.com/ur/کتابیں/164590/darwins-dilemma-the-soul-http://imgaws1.fmanager.net/Image/objects/1-kitaplar/darwin_ki_rooh_se_mutaliq_ghair_yaqini_eph.jpgSun, 23 Jun 2013 14:51:38 +0300ڈارونی افراد کا جھانسا تمام انسانیت کے خلاف ایک شرمناک حرکت ہے! سابقہ 150 سالوں سے عوام کو با ضابطہ طور پر ڈارون کی تھیوری پر یقین کرنے کے لیے مجبور کیا گیا ہے۔ دنیا کے لیے بالآخر لازمی ہوگیا ہے کہ اس باطل کو اب ختم کردیا جاۓ جس کا نام "ڈاروینیزم" ہے۔ ڈاروینی لوگوں نے ان 350 ملین آثار متحجّرہ (فوسل) کو چھپایا ہے جو تخلیق کو ثابت کرنے میں اہم کردار نبھاتے ہیں۔ انھوں نے اس حقیhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/157393/ڈارونی-افراد-کا-جھانسا-تمامhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/157393/ڈارونی-افراد-کا-جھانسا-تمامhttp://imgaws1.fmanager.net/Image/objects/6-makaleler/8310_darwinizmden_destek_alan_romantik_milliyetciligin_karanlik_yuzu.jpgSat, 26 Jan 2013 20:13:57 +0200ارتقاء انٹرنیشنلhttp://ur.harunyahya.com/ur/ویب-سائیٹ/146236/ارتقاء-انٹرنیشنلhttp://ur.harunyahya.com/ur/ویب-سائیٹ/146236/ارتقاء-انٹرنیشنلhttp://imgaws1.fmanager.net/files/website/resimler/evrim_enternasyonal.jpgMon, 06 Aug 2012 01:16:05 +0300What Darwinists Fail To Consider - URDU LANGUAGEhttp://ur.harunyahya.com/ur/کتابیں/106565/what-darwinists-fail-to-considerhttp://ur.harunyahya.com/ur/کتابیں/106565/what-darwinists-fail-to-considerhttp://imgaws1.fmanager.net/Image/objects/1-kitaplar/darwinists_fail_to_consider_urdu.jpgSun, 04 Mar 2012 03:33:25 +0200Allah is near to men - Urdu Languagehttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/39871/allah-is-near-to-menhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/39871/allah-is-near-to-menThu, 17 Mar 2011 18:46:41 +0200Do you notice the unanticipated beauties Allah creates for you? - Urdu Languagehttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/39421/do-you-notice-the-unanticipatedhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/39421/do-you-notice-the-unanticipatedFri, 04 Mar 2011 22:25:58 +0200Every moment we live is a great blessing from Allahhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/38096/every-moment-we-live-ishttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/38096/every-moment-we-live-isSat, 05 Feb 2011 10:50:02 +0200Science is anti-Darwinist, anti-atheisthttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/36799/science-is-anti-darwinist-antihttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/36799/science-is-anti-darwinist-antiThu, 06 Jan 2011 02:32:08 +0200وقت کی اضافیّت قرآن میں بیان کی گئیوقت کی اضافیت جو کہ سائینس نے بیسویں صدی عیسوی میں دریافت کی، ۱۴۰۰ سال پہلے قرآن میں٘ بتا دی گئی تھی۔ مثال کے طور پر اللہ نے بہت ساری آیات میں زور دیا کہ اس دنیا کی زندگی بہت تھوڑی ہے۔ ہمارے مالک نے ہمیں مطلع کیا کہ اوسطا انسانی زندگی اتنی تھوڑی ہے جتنی کہ "ایک دن کا ایک گھنٹہ"۔ جس دن وہ تمہیں بلائے گا تم اسکی تعریف کhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/28856/وقت-کی-اضافیّت-قرآن-میںhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/28856/وقت-کی-اضافیّت-قرآن-میںMon, 26 Jul 2010 06:04:46 +0300ایک سوال جو لوگوں کو ہر وقت اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے: کیا مجھے ہر وقت یہ سمجھنا چا ہئیے کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے؟آپکا کسی کے ساتھ ایک خاص وقت میں ملاقات کا وقت طے ہے مگر وہ وقت پر نہیں پہنچتا۔ آپ کسی کام میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہیں مگر اسے سراہا نہیں جاتا۔ آپ کسی شخص کے لیے کوئی کام کرتے ہیں اور اسمیں بہت محنت کرتے ہیں، مگر وہ اسکو دیکھتے تک نہیں۔ آپ بہت ہی اچھی نیّت کے ساتھ کچھ کہتے ہیں، مگر دوسرے اسکا غلط مطلب لیتے ہیں۔ آپ گھنٹوں صفاhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/28855/ایک-سوال-جو-لوگوں-کوhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/28855/ایک-سوال-جو-لوگوں-کوMon, 26 Jul 2010 05:21:50 +0300ایک سوال جو لوگوں کو ہر وقت اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے: کیا مجھے ہر وقت یہ سمجھنا چا ہئیے کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے؟آپکا کسی کے ساتھ ایک خاص وقت میں ملاقات کا وقت طے ہے مگر وہ وقت پر نہیں پہنچتا۔ آپ کسی کام میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہیں مگر اسے سراہا نہیں جاتا۔ آپ کسی شخص کے لیے کوئی کام کرتے ہیں اور اسمیں بہت محنت کرتے ہیں، مگر وہ اسکو دیکھتے تک نہیں۔ آپ بہت ہی اچھی نیّت کے ساتھ کچھ کہتے ہیں، مگر دوسرے اسکا غلط مطلب لیتے ہیں۔ آپ گھنٹوں صفاhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/28854/ایک-سوال-جو-لوگوں-کوhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/28854/ایک-سوال-جو-لوگوں-کوMon, 26 Jul 2010 05:21:27 +0300پانی جو موجود ہے وہ ہی ہمیشہ ہم تک واپس آتا ہےاللہ نے انسان کو بہت سے شعبوں میں علم عطا کیا ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ دور کی ترقی نے ہم کو لیبارٹری میں بننے والی بہت ساری چیزوں کا مشاہدہ کرایا۔ البتہ کچھ بنیادی چیزیں کبھی بھی لیبارٹری کے ماحول میں نہیں لائی جا سکتیں اور نہ ہی مشاہدہ کی جا سکتیں ہیں۔ پانی ان بہت ساری نعمتوں میں سے ایک ہے جو کہ زمین کا زیاhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/27104/پانی-جو-موجود-ہے-وہhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/27104/پانی-جو-موجود-ہے-وہSat, 26 Jun 2010 09:35:16 +0300فوٹو سنتھیسز کا خوبصورت نظام - (سورج کی روشنی کی مدد سے پودوں میں کیمیا ئی عمل)ایک پتہ اٹھائیں اور اسے غور سے دیکھیں۔ اگرچہ یہ ایک عام سا نظر آتا ہے، مگر جو چیز آپ نہیں دیکھ سکتے وہ اس میں پایا جانے والا وسیع طر کیمیائی عمل ہے جو کہ اسے فوٹو سنتھیسز کے عمل کے قابل بناتا ہے۔ اس میں پائی جانے والے ان گنت کارخانے جو کہ آنکھ سے نہیں دیکھے جا سکتے، اس عمل کو سیکنڈوں میں انجام دے دیتے ہیں جو کہ اتنا اعلی نظام ہےhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/26229/فوٹو-سنتھیسز---کاhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/26229/فوٹو-سنتھیسز---کاMon, 14 Jun 2010 06:45:28 +0300ڈارونزم کے خلاف عقلی اور شعوری جدوجہد کی اہمیتڈارون ازم یہ دلائل پیش کرتے ہوئے کہ زندگی اور تمام کائنات ایک اتفاقیہ حادثے کا نتیجہ ہے، ہمیں درپیش سب سے خطرناک نظریہ ہے۔ اس نے تمام نقصان دہ تحریکوں جن میں مادیت پرستی Materialism اور فسطائیت Fascism بھی شامل ہیں، کے لئے بنیادی تراش خراش فراہم کی جو انسانیت کی بربادی کا سبب بنتی رہیں۔ ابھی بھی کچھ ایسے لوگ ہیں جو اس کی بار بhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/24057/ڈارونزم-کے-خلاف-عقلی-اورhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/24057/ڈارونزم-کے-خلاف-عقلی-اورFri, 07 May 2010 02:30:08 +0300نیو کلیئس میں پوشیدہ طاقتہوا ، پانی، پہاڑ، جانور، پودے، آپکا جسم، وہ کرسی جس پر آپ بیٹھے ہیں غرضیکہ ہر ہلکی سے ہلکی اور بھاری سے بھاری چیز جسکو آپ دیکھ سکتے ہیں اور چھو سکتے ہیں ایٹموں سے مل کر بنی ہے۔ یہ اخبار جو آپکے ہاتھ میں ہے یہ بھی کھربوں ایٹموں پر مشتمل ہے۔ ایٹم اتنے چھوٹے ذرات ہیں کہ ان کو انتہائی طاقتور قسم کی خوردبین سے دیکھنا بھی ناممکن ہے۔http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/24056/نیو-کلیئس-میں-پوشیدہ-طاقتhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/24056/نیو-کلیئس-میں-پوشیدہ-طاقتFri, 07 May 2010 02:19:21 +0300تخلیق – ایک واضح سچاب جبکہ سائنس نے ارتقاء کے نظریہ کی دھجیاں بکھیر دی ہیں،جسکے مطابق زندگی اتفاقیہ از خود وجود میں آگئی ہے، اور دوسری طرف اس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ فطرت میں ایک کامل تخلیق موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہی تمام جانداروں کو وجود میں لانے کا سبب بنی. نظریہ ارتقاء اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ زندگی محض اتفاق کا نتیجہ ہے، لیکن تمام سhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/24043/تخلیق-–-ایک-واضح-سچhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/24043/تخلیق-–-ایک-واضح-سچFri, 07 May 2010 01:50:34 +0300شہد کا چھتّہ – جادو نگری یا ایک معجزاتی دنیااس حقیقت سے تقریبا ہر شخص واقف ہے کہ شہد انسانی جسم کی ایک اہم اوربنیادی ضرورت ہے لیکن شہد پیدا کرنے والی مکھی کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ اس بات سے تو سبھی واقف ہیں کہ شہد کی مکھیاں پھولوں کا رس Nectar) ( اورزرگل((Pollen اکٹھاکر کے شہد بناتی ہے لیکن چونکہ سردیوں میں پھول نہیں ہوتے اس لیے وہ یہ فریضہ گرمیوں کے موسم میں سرhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/24040/شہد-کا-چھتّہ-–-جادوhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/24040/شہد-کا-چھتّہ-–-جادوFri, 07 May 2010 01:47:11 +0300کائنات کا پھیلاوَ - ۲ماؤنٹ ولسن کی رصدگاہ واقع کیلی فورنیا میں 1929ء میں امریکی ماہر فلکیات ایڈون ہبل نے فلکیات کی تاریخ میں ایک عظیم دریافت کی۔ جس وقت وہ ایک بڑی دوربین کے ذریعے ستاروں کا مشاہدہ کررہا تھا، اس نے دیکھا کہ ان سے نکلنے والی روشنی، طیف (Spectrum) کے سرخ سرے میں منتقل ہورہی ہے اور جو ستارہ زمین سے جتنا دُور ہے، یہ منتقلی اتنی ہی نمایاںhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/24039/کائنات-کا-پھیلاوَ--http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/24039/کائنات-کا-پھیلاوَ--Fri, 07 May 2010 01:42:51 +0300