HARUNYAHYA.COMhttp://harunyahya.comharunyahya.com - مہدی، حضرت عیسٰی اور آخری وقت - حالیہ اضافہurCopyright (C) 1994 harunyahya.com 1HARUNYAHYA.COMhttp://harunyahya.comhttp://harunyahya.com/assets/images/hy_muhur.png11666A question that people must constantly ask themselves: Do I always bear in mind the fact that Allah creates all things? - Urdu<a href="http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/162137/a-question-that-people-must"><img src="http://imgaws1.fmanager.net/Image/objects/6-makaleler/The-Blue-Flowers.jpg" alt="A,question,that,people,must,constantly,ask,themselves:,Do,I,always,bear,in,mind,the,fact,that,Allah,creates,all,things?,-,Urdu" align="left" style="padding-right:5px;" border="0" width="97" height="100" /></a><p style="text-align: center;"> <img alt="" src="/Image/question_must_ask1.jpg" style="width: 650px; height: 724px;" /></p> <p style="text-align: center;"> <img alt="" src="/Image/question_must_ask2.jpg" style="width: 650px; height: 724px;" /><br /> <img alt="" src="/Image/question_must_ask3.jpg" style="width: 650px; height: 400px;" /></p> http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/162137/a-question-that-people-musthttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/162137/a-question-that-people-musthttp://imgaws1.fmanager.net/Image/objects/6-makaleler/The-Blue-Flowers.jpgThu, 02 May 2013 13:30:44 +0300The unavoidable truth approaching: the Day of Judgment<p style="text-align: center;"> <img alt="" src="/Image/makaleler/urdu47.jpg" /></p> <p style="text-align: center;"> <img alt="" src="/Image/makaleler/urdu48.jpg" /></p> <p style="text-align: center;"> <img alt="" src="/Image/makaleler/urdu49.jpg" /></p>http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/37710/the-unavoidable-truth-approaching-thehttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/37710/the-unavoidable-truth-approaching-theFri, 28 Jan 2011 15:20:00 +0200پچھلے تیس سالوں میں وقوع پذیر ہونے والی آخرت کی نشانیاں یہ بات ثابت کرتی ہیں کہ اس دنیا میں مدت حیات ۷۰۰۰ سال ہوتی ہے۔<div name="str" style="font-family: jameel noori nastaleeq; direction: rtl; font-size: 18px;"> - ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آٹھ احادیث میں جنکو امام سیوتی نے نقل کیا ہے جو کہ اپنے وقت کے ایک عظیم محدث گذرے ہیں، یہ بتایا گیا ہے کہ زمین پر مدت حیات ۷۰۰۰ سال ہوتی ہے اور ۵۶۰۰ سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تک ہو چکے تھے۔ جب ہم ۷۰۰۰ میں سے ۵۶۰۰ تفریق کرتے ہیں تو ۱۴۰۰ باقی بچتے ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کے یہ امت ۱۵۰۰ سال سے زیادہ نہیں جئیے گی۔</div> <div name="str" style="font-family: jameel noori nastaleeq; direction: rtl; font-size: 18px;"> <br /> - جیسا کہ ہم اسلامی کلینڈر کے مطابق ۱۴۳۱ ہجری سے گزر رہے ہیں اور اگر حساب لگائیں کہ ہم ۱۵ صدی شروع ہونے تک ۱۴ صدی میں ہیں تو یہ بات یقینی ہے کہ حضرت مہدی کا ظہور اسی صدی میں ہوگا۔ کیونکہ اسکے بعد کوئی اور صدی باقی نہیں بچتی حضرت مہدی کے آنے کے لیے۔ ۱۴ صدی کے شروع ہوتے ہی یکے بعد دیگرے پیش آنے والی آخرت کی نشانیاں جو کہ احادیث مبارکہ میں تفصیل کے ساتھ بتا دی گئی ہیں صاف طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ہم آخری دور سے گزر رہے ہیں اور حضرت مہدی کا ظہور اسی صدی میں ہوگا۔</div> <div name="str" style="font-family: jameel noori nastaleeq; direction: rtl; font-size: 18px;"> <br /> - مزید یہ کہ پچھلے تیس سالوں میں پیش آنے والے واقعات اس حدیث کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس زمین پر مدت حیات ۷۰۰۰ سال کی ہے، جسمیں سے ۵۶۰۰ سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تک پورے ہو چکے اور اس امت کی مدت حیات ۱۵۰۰ سال سے زیا دہ نہیں۔<br /> <br /> ۱۴ صدی کی شروعات سے پچھلے تیس سالوں میں یکے بعد دیگرے پیش آنے والے واقعات مندرجہ زیل ہیں۔</div> <div name="str" style="font-family: jameel noori nastaleeq; direction: rtl; font-size: 18px;"> <br /> - ۱۹۷۵ میں٘ دریائے فرات کے پانی کا خشک ہونا۔ یہ کےبان ڈیم بنانے کی وجہ سے ہوا<br /> - ۱۹۷۹ میں افغانستان پر قبضہ<br /> - ۱۹۷۹ میں خانہ کعبہ پر ہونے والا حملہ اور اسکے نتیجے میں خون خرابہ۔ ۴۰۰ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے۔<br /> - ۱۹۸۰ میں ایران عراق جنگ۔<br /> - ۱۹۷۹ انڈیپینڈینٹا جہاز کا ڈوبنا اور اسی سال شروع ہونے والی سیاسی افراتفری۔<br /> - ۱۹۸۱ اور ۱۹۸۲ میں سورج اور چاند کا رمضان کے مہینے میں گرہن ۱۵ دن کےوقفہ سے۔<br /> - ۱۹۸۶ میں ستارہ ہلری کومٹ کا زمین کے قریب سے گزر۔<br /> - سینگ کی شکل والے دمدار ستارہ کا ظہور - ۲۴ فروری ۲۰۰۹ کو لولن کومٹ نظر آیا - یہ کومٹ حدیث میں بیان کیے گئے کومٹ سے مشابہت رکھتا ہے۔جیسا کہ تمام کومٹ ایسٹ سے ویسٹ کی طرف سفر کرتے ہیں، لولن کومٹ نے ویسٹ سے ایسٹ کی طرف سفر کیا۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اسکے دو سینگ ہونگے، لولن کے شکل بھی دو سینگ جیسی ہے۔ حدیث میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ بہت چمکدار ہوگا اور لولن دوسروں کی بنسبت چھ گناہ زیا دہ چمکدارتھا۔<br /> - سورج سے ظاہر ہونے والا نشان- ۱۹۹۶ میں سورج میں ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ اسکے علاوہ ۱۱ اگست ۱۹۹۹ میں اس صدی کے آخری سورج گرہن ہوا جسے پہلی دفعہ بہت سارے لوگوں نے دیکھا۔<br /> - ۱۹۹۰ میں٘ افغانستان پر قبضہ<br /> - مٹی اور دھواں کے بعد بد نظمی - ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ میں امریکہ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے نتیجہ میں ہونے والی بدنظمی۔<br /> - آگ کے شعلوں سے عراق کی تباہی۔۲۰۰۳ میں شروع ہونے والی دوسری گلف وار میں پہلے دن سے ہی زبردست بمباری ہوئی۔<br /> - عراق سے سکوں کا ختم ہونا۔ ۲۰۰۳ کی جنگ کے بعد عراقی کرنسی دینار کا خاتمہ۔<br /> - ایک آرمی کا غائب ہونا - اچانک عراق کی ۸۰،۰۰۰ فوج کا غائب ہو جانا اس جنگ کی ایک بہت ہی انہونی بات ہے۔<br /> - عراق اور شام کے خلاف پابندیاں - صدام حسین کے دور سے شروع ہونے والی پاندیاں جو دس سال تک جاری رہیں۔<br /> - عراق کی تعمیر نو۔ قبضہ کے بعد تباہ ہونے والے شہروں کی دوبارہ تعمیر شروع ہوئی۔<br /> - عراقیوں کا شام کی طرف انخلاء- امریکہ کے حملے اور بمباری کی وجہ سے لوگوں نے شام کی طرف ہجرت کی۔<br /> - عراق کا تین حصوں میں تقسیم ہونا- امریکہ کے حملے کے بعد عراق تین حصوں میں تقسیم ہو گیا۔<br /> - شام میں بد نظمی<br /> - فرات اور تیگریز کے درمیان جنگ - یہ اشارہ ایران اور عراق جنگ کی طرف ہے۔<br /> - شہروں کا فنا ہونا - دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان پر گرنے والے ایٹم بم نے ہیرو شیما اور ناگاساکی کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔<br /> - مشرق سے اٹھنے والی آگ - جولائی ۱۹۹۱ میں عراق کا کوئیت پر حملہ اور تیل کے کووں کو آگ لگانے کی وجہ سے اٹھنے والا دھواں۔<br /> - ٘مصر اور شام کے حکمرانوں کا قتل۔ ۱۹۸۱ میں مصر کے صدر انوار السادات کا قتل ہوا۔ لفظ شام کا مطلب صرف ملک شام ہی نہیں بلکہ اسکا مطلب &quot; بائیں جانب&quot; بھی ہے اور یہ بہت عرصے تک حجاز کے بائیں جانب پائے جانے والے ملکوں کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ اس خطہ میں بہت سے حکمرانوں کا قتل ہوچکا ہے جسمیں شام کے وزیر صالح دین بطار ۱۹۲۰ میں اور اور محسن البرازی ۱۹۴۹ میں اور لبنان کے حکمران بشیر گمایل ۱۹۸۲ میں شامل ہیں۔<br /> - اردن کے بادشاہ عبداللہ کا قتل - برطانیہ نے ۱۹۵۱ میں اردن کے بادشاہ عبداللہ کا قتل کیا۔<br /> - نظام کی تبدیلی - ۱۹۸۹ میں برلن ٹوٹا اور ۱۹۹۱ میں روس کے ٹکڑے ہوئے۔<br /> - قتل عام میں اضافہ<br /> - عالمی معاشی بحران<br /> - معصوم بچوں کا قتل عام<br /> - آندھیاں اور طوفان<br /> - قحط اور خشک سالی<br /> - سیلاب کی کثرت<br /> - متواتر زلزلے<br /> - بجلیوں کا گرنا<br /> - عام شہریوں کا قتل عام<br /> - لوگوں کا ایک دوسرے سے جدا ہونا<br /> - صاف طور پر اللہ کے وجود کا انکار<br /> - حرام چیزوں کا حلال قرار دیا جانا<br /> - جھوٹے نبیوں کا ظہور ہونا<br /> - عمروں کا لمبا ہونا<br /> - صحراوَں میں ہریالی کا آنا<SCRIPT type=text/javascript> var gaJsHost = (("https:" == document.location.protocol) ? "https://ssl." : "http://www."); document.write(unescape("%3Cscript src='" + gaJsHost + "google-analytics.com/ga.js' type='text/javascript'%3E%3C/script%3E")); </SCRIPT><SCRIPT type=text/javascript src="http://www.google-analytics.com/ga.js"></SCRIPT><SCRIPT type=text/javascript> try { var pageTracker = _gat._getTracker("UA-1890515-4"); pageTracker._trackPageview(); } catch(err) {}</SCRIPT></div>http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/25974/پچھلے-تیس-سالوں-میں-وقوعhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/25974/پچھلے-تیس-سالوں-میں-وقوعFri, 11 Jun 2010 05:18:25 +0300قرآن میں تین خداوَ ں کا انکار<div name="str" style="font-family: jameel noori nastaleeq; direction: rtl; font-size: 18px;"> <br /> سورۃ النساء ۱۷۱&nbsp;- ۱۷۲<br /> اے اہل کتاب اپنے دین کے بارے میں حد سے نہ گزر جاوَ اور اللہ پر بجز حق کے اور کچھ نہ کہو، مسیح عیسٰی بن مریم تو صرف اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کے کلمہ ہیں، جسے مریم کی طرف ڈال دیا تھا اور اسکے پاس کی روح ہیں، اس لیے تم اللہ اور اسکے سب رسولوں کو مانو اور نہ کہو کہ اللہ تین ہیں، اس سے باز آجاوَ کہ تمہارے لیے بہتری ہے، اللہ عبادت کے لائق تو صرف ایک ہی ہے اور وہ اس سے پاک ہے کہ اسکی اولاد ہو، اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اللہ کافی ہے کام بنانے والا۔<br /> عیسٰی کو اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی تنگ و عار یا تکبر و انکار ہرگز ہو ہی نہیں سکتا اور نہ مقرب فرشتوں کو، اسکی بندگی سے جو بھی دل چرائے اور تکبر و انکار کرے، اللہ تعالٰی ان سب کو اکٹھا اپنی طرف جمع کریگا۔<br /> سورۃ المائدہ ۷۲<br /> بے شک وہ لوگ کافر ہو گئے جن کا قول ہے کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے۔ حالانکہ خود مسیح نے ان سے کہا تھا کہ اے نبی اسرائیل اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا سب کا رب ہے، یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالٰی نے اس پر جنت حرام کردی ہے، اسکا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔<br /> سورۃ المائدہ ۱۷<br /> یقینا وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے، آپ ان سے کہ دیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم اور اسکی والدہ اور روئے زمین کے سب لوگوں کو ہلاک کردینا چاہے تو کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر کچھ بھی اختیار رکھتا ہو؟ آسمانوں اور زمین اور دونوں کے درمیان کا کل مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہےا ور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قاد ر ہے۔<br /> سورۃ المائدہ ۱۱۶<br /> اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے عیسٰی ابن مریم کیا تم نے ان لوگوں سے کہ دیا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی علاوہ اللہ کے معبود قرار دے لو، عیسٰی عرض کرینگے میں تو تجھ کو منزہ سمجھتا ہوں، مجھ کو کسی طرح زیبا نہ تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں، اگر میں کہا ہوگا تو تجھ کو اسکا علم ہوگا۔ تو تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اسکو نہیں جانتا ۔ تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے۔<br /> سورۃ مریم ۳۰&nbsp;- ۳۱<br /> بچّہ بول اٹھا، میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے اپنا پیغمبر بنایاہے۔ اور اس نے مجھے با برکت کیا ہے جہاں بھی میں ہوں، اور اس نے مجھے نماز اور زکواۃ کا حکم دیا ہے جب تک بھی میں زندہ رہوں۔ اور اس نے مجھے اپنی والدہ کا خدمت گزار بنایا ہے اور مجھے سرکش اور بدبخت نہیں کیا۔<br /> سورۃ آل عمران ۷۹<br /> کسی ایسے انسان کو جسے اللہ تعالیٰ کتاب و حکمت اور نبوت دے، یہ لائق نہیں کہ پھر بھی وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاوَ، بلکہ وہ تو کہے گا کہ تم سب رب کے ہو جاوَ تمہارے کتاب سکھانے کے باعث اور تمہارے کتاب پڑھنے کے باعث۔<br /> سورۃ المائدہ ۷۵<br /> مسیح ابن مریم سوائے پیغمبر ہونے کے اور کچھ بھی نہیں، اس سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہو چکے ہیں انکی والدہ ایک راست باز عورت تھیں، دونوں ماں بیٹے کھانا کھایا کرتے تھے، آپ دیکھئے کہ کسطرح ہم انکے سامنے دلیلیں رکھتے ہیں پھر غور کیجئے کہ کسطر وہ پھر جاتے ہیں۔<br /> سورۃ الانبیاء ۲۵ -۲۹<br /> تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اسکی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو۔ مشرک لوگ کہتے ہیں کہ رحمان اولاد والا ہے، اسکی ذات پاک ہے بلکہ وہ سب اسکے با عزت بندے ہیں۔ کسی بات میں اللہ پر پیش دستی نہیں کرتے بلکہ اسکے فرمان پر کار بند ہیں۔ وہ ان کے آگے پیچھے کے تمام امور سے واقف ہے وہ کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز انکے جن سے اللہ خوش ہو وہ تو خود ہیبت الٰہی سے لرزاں و ترساں ہیں۔ ان میں سے اگر کوئی بھی کہ دے کہ اللہ کے سوا میں لائق عبادت ہوں تو ہم اسے دوزخ کی سزا دیں ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔<SCRIPT type=text/javascript> var gaJsHost = (("https:" == document.location.protocol) ? "https://ssl." : "http://www."); document.write(unescape("%3Cscript src='" + gaJsHost + "google-analytics.com/ga.js' type='text/javascript'%3E%3C/script%3E")); </SCRIPT><SCRIPT type=text/javascript src="http://www.google-analytics.com/ga.js"></SCRIPT><SCRIPT type=text/javascript> try { var pageTracker = _gat._getTracker("UA-1890515-4"); pageTracker._trackPageview(); } catch(err) {}</SCRIPT></div>http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/24672/قرآن-میں-تین-خداوَ-ںhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/24672/قرآن-میں-تین-خداوَ-ںWed, 19 May 2010 07:26:11 +0300حضرت مہدی کے زمانے کی بہترین زندگی – سنہرا زمانہ<div name="str" style="font-family: jameel noori nastaleeq; direction: rtl; font-size: 18px;"> <SCRIPT type=text/javascript> var gaJsHost = (("https:" == document.location.protocol) ? "https://ssl." : "http://www."); document.write(unescape("%3Cscript src='" + gaJsHost + "google-analytics.com/ga.js' type='text/javascript'%3E%3C/script%3E")); </SCRIPT><SCRIPT type=text/javascript src="http://www.google-analytics.com/ga.js"></SCRIPT><SCRIPT type=text/javascript> try { var pageTracker = _gat._getTracker("UA-1890515-4"); pageTracker._trackPageview(); } catch(err) {}</SCRIPT> <div name="str" style="font-family: jameel noori nastaleeq; direction: rtl; font-size: 18px;"> ہمارے نبی صل اللہ علیہ واسلم کی احادیث مبارکہ میں بہت تفصیل کے ساتھ آخرت کے زمانہ کے اشارے ملتے ہیں جو کہ قیا مت سے قریب ہوگا۔ان تفصیلات کے مطابق جنکا علم ہمارے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے دیا، اس وقت یکے بعد دیگرے بہت ساے واقعات ظہور پذیر ہونگے۔ آخری زمانہ کے پہلے مرحلے میں زمین پر بہت زیادہ فساد اور بد نظمی پھیلے گی، اور دوسرے مرحلے میں جیسا کہ لوگ دینی اقدار کے مطابق زندگی گزاریں گے بہت ہی امن و امان اور حفاظت چھا جائے گی۔<br /> آخری زمانہ کے پہلے مرحلے میں مختلف فلاسفی نظام جو کہ غیراللہ اور بے دینی کی تعلیم کے تحت ہونگے ، انکے اللہ کے وجود کا انکار کرنے کی وجہ سے لوگوں کے درمیان خطرناک حد تک بحران ہوگا ۔ انسانیت اپنے پیدا کرنے کے اصل مقصد سے ہٹ جائے گی جسکی وجہ سے ایک روحانی خلا اور اخلاقیات کا بحران ہوگا۔زبردست تباہی ہوگی، جنگیں ہونگیں، قحط سالی کا زمانہ ہوگا اور ہر کوئی اس سوال کا جواب ڈھونڈے گا کہ ہم کسطرح بچ سکتے ہیں۔کسطرح ان مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و اسلم کی احادیث میں ، ان میں سے زیا دہ تر تباہ کاریوں کو آخری زمانہ کی نشانیوں سے نسبت دی گئی ہے جو کہ ہمارے زمانے میں وقوع پذیر ہوئے بلکل اسی طرح جسطرح کے بتائے گئے۔ حال ہی میں بڑھتے ہوئے اختلافات اور جنگیں، دہشت گردی، لوٹ مار، سیاسی افراتفری اور بد نظمی، قتل و غارت اور تشدّد، یہ سب آخری زمانہ کے پہلے مرحلے کے نشانات ہیں جو کہ آج کل ہو رہے ہیں۔<br /> ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دی گئی اطلاعات کے مطابق، اس اندھیرے دور کے بعد اللہ پاک لوگوں کو اس فساد اور بدنظمی سے بچا لیں گے اور انکو اس ظلم سے نجات عطا کرینگے۔دوسرے الفاظ میں اللہ پاک حضرت مہدی کی شکل میں جنکا خطاب &quot;سچائی کی طرف رہنمائی کرنے والا&quot; ہوگا اور جو عظیم اخلاقی اقدار کے مالک ہونگے، لوگوں کا امام بنائیں گے جو ان لوگوں کی رہنمائی کرینگے جو کہ اصل دینی اخلاقیات سے پھر گئے ہونگے اور جن معاشروں میں سیدھے راستے سے ہٹنے کی وجہ سے بحران پیدا ہوا۔ ہمارے نبی کی حدیث میں اور اسلامی علماء کی تحقیق اور تشریح کے مطابق، حضرت مہدی تین بڑے کاموں کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ سب سے پہلا کام حضرت مہدی جو کرینگے وہ ہر اس فلاسفی نظام کو مات دینگے جو اللہ کے وجود کا انکار کرتا ہے اور غیراللہ کو سہارا دیتا ہے۔دوسری طرف وہ اسلام کی اصل روح کو قرآن اور سنت کے مطابق بیدار کرینگے۔ آخری زمانہ کے پہلے مرحلے میں وہ بدنظمی کا، سماجی مسائل کا، معاشرے میں انسانیت کو پیش آنے والی مشکلات کا حل نکالیں گے اور جو کہ ذریعہ بنے گا امن و امان کا، خوشیوں کا اور اخلاقیات کے دنیا میں پھیلنے کا۔<br /> دوسری طرف حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کا دوبارہ دنیا میں ظہور ہو گا اسی زمانے میں جس زمانے میں حضرت مہدی ہونگے، اور وہ خاص طور پر عیسائیوں اور یہودیوں کو مخاطب کرینگے اور انکو غلط عقائد جس میں وہ پڑ گئے ہونگے نجات دلائینگے اور انکو قرآنی اخلاقیات کی طر ف دعوت دینگے۔ جیسے ہی عیسائی حضرت عیسٰی کو تسلیم کرینگے، اسلام اور عیسائیت ایک عقیدہ کے تحت متحد ہو جائینگے اور امن و امان، حفا ظت، خوشحالی کا زمانہ شروع ہو جائے گا۔ یہ زمانہ سنہرے زمانہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔<br /> یہ مقدس زمانہ جسکا سینکڑوں سالوں سے آرزو اور انتظار ہے، آدھی صدی پر محیط ہوگا جیسا کہ حدیثوں میں اشارے ملتے ہیں اور بلکل اسی طرح خوشیوں کے وقت سے مشابہت کریگا جیسا حضور صل اللہ علیہ واسلم کا زمانہ تھا۔ اس سنہرے زمانہ میں زندگی بہت ہی دلکش ہے کہ ہر کوئی خواہش کرے گا کہ وہ یہ زمانہ میں رہ چکا ہو۔ وہ وقت کے گزرنے کا اندازہ نہیں کر سکیں گے اور اللہ سے لمبی عمر کی التجا کریں گے تاکہ اس دلکش زندگی سے مزید لطف اندوز ہو سکیں۔<br /> اس سنہرے زمانے کی آرزو اور تمنائیں ہمارے پیارے نبی صل اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں اس طرح بیان کی گئی ہیں:<br /> نو عمر خواہش کرینگے کہ ہم جوان ہو جائیں اور ادھیڑ عمر خواہش کرینگے کہ ہم کم عمر ہو جائیں۔<br /> نعیم حماد ، ابن عباس سے نقل کرتے ہیں:<br /> مہدی اہل بیت سے ایک نو جوان ہے۔ ہمارے بوڑھے اس تک نہیں پہنچ سکیں گے اور جوان اسکی امید کرینگے۔ اسکا وقت ایسا ہوگا کہ قبروں میں دفن مردے بھی زندہ ہونے کے لیے حسد کرینگے۔<br /> حدیث میں ہمارے نبی صل اللہ علیہ واسلم نے بتا یا کہ حضرت مہد ی کے ساتھ جو لوگ شامل ہونگے وہ بہت ہی عمدہ ہونگے جنکو اس دنیا میں اورآخرت میں نجات ہوگی اور جو اچھی باتیں اس زمانہ میں وقوع پزیر ہونگی اسکے بارے میں اشارے دیے۔<br /> میرے خاندان میں سے ایک آدمی آئیگا جو اس دنیا کو انصاف سے بھر دے گا جسوقت وہ فساد سے بھری ہوگی۔سو جو کوئی بھی وہ زمانہ دیکھے خیر کے لیے انکے ساتھ شامل ہو چاہے برف پر گھسٹ کے آنا پڑے کیونکہ انکے درمیان اللہ کے خلیفہ المہدی ہونگے۔<br /> اس دوران لوگ جو خوشیاں اور مسرت تجربہ کرینگے اسکا زکر اللہ نے قرآن میں کیا ہے۔ قرآن کی ایک آیت میں اللہ نے فرمایا کہ اللہ اپنے نیک بندوں کو خوش حال زندگی عنایت کرینگے۔<br /> &quot;جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت لیکن با ایمان ہو تو ہم اسے یقینا نہایت بہتر زندگی عطا فر مائینگے 150 اور انکے نیک اعمال کا بدلہ بھی انہیں ضرور دینگے -سورۃ نحل ۹۷&quot;</div> <div> &nbsp;</div> </div>http://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/24441/حضرت-مہدی-کے-زمانے-کیhttp://ur.harunyahya.com/ur/مضامین/24441/حضرت-مہدی-کے-زمانے-کیFri, 14 May 2010 07:30:21 +0300حضرت مریم ؑ : ایک مثالی مسلمان خاتون<a href="http://ur.harunyahya.com/ur/کتابیں/13830/حضرت-مریم-ؑ--ایک"><img src="http://imgaws1.fmanager.net/files/book/pictures/maryam_exemplary_woman.jpg" alt="حضرت,مریم,ؑ,:,ایک,مثالی,مسلمان,خاتون" align="left" style="padding-right:5px;" border="0" width="97" height="100" /></a><p align="justify"> <font face="Verdana" size="3">Allah made it possible for people to understand how to live the Qur&#39;an&#39;s morality by giving examples from the Prophets&#39; and other Muslims&#39; lives. One of these sincere Muslims is Maryam, one of the two women noted for their exemplary characters: <strong>&quot;Allah has made an example for those who believe: the wife of Pharaoh, when she said: &#39;My Lord, build a house in the Garden for me in Your presence, rescue me from Pharaoh and his deeds, and rescue me from this wrongdoing people.&#39; And Maryam, the daughter of &#39;Imran, who guarded her chastity-We breathed Our Spirit into her. She confirmed the Words of her Lord and His Book, and was one of the obedient&quot;.</strong> (Surat at-Tahrim: 11-12)<br /> <br /> Allah introduces Maryam as having &quot;the ideal Muslim woman&#39;s character.&quot; This character is completely different than the common character of women in today&#39;s unbelieving societies, where they usually share a common socially acceptable character handed down from their ancestors.<br /> <br /> According to the Qur&#39;an, however, men and women have the same responsibilities and characters, for Allah refers to &quot;an ideal Muslim character.&quot; </font></p> http://ur.harunyahya.com/ur/کتابیں/13830/حضرت-مریم-ؑ--ایکhttp://ur.harunyahya.com/ur/کتابیں/13830/حضرت-مریم-ؑ--ایکhttp://imgaws1.fmanager.net/files/book/pictures/maryam_exemplary_woman.jpgThu, 16 Apr 2009 14:30:09 +0300